معرفت دین، احکام دین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۶
معرفت دین، احکام دین
دینِ خداوندی کے دو حصے ہیں۔ اس کے ایک حصے کو معرفت کہہ سکتے ہیں، اور اس کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو احکام کہا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں یکساں طور پر ضروری ہیں، جس طرح ایک انسانی شخصیت کے لیے روح اور جسم دونوں یکساں طور پر ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن معرفت اور احکام میں یہ فرق ہے کہ معرفت، دین کا اصل حصہ (real part) ہے اور اس کے مقابلے میں احکام کا حصہ دین کا اضافی حصہ (relative part) ہے۔ دین میں دو حصے کا ہونا نص کے ذریعے ثابت ہے۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں فرمایا: لکلّ آيةٍ منها ظهْرٌ وبطْنٌ (مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 238) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک ظہر (outer portion) ہے اور دوسرا اس کا بطن (inner portion) ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کی آیات کا ایک پہلو سطور (lines) میں ہے اور اس کا دوسرا پہلو بین السطور (between the lines) میں ملتا ہے۔ اس حدیث کو لے کر کہا جاسکتا ہے کہ دین کی معرفت نام ہے داخلی معنویت کا، اور دین کے مسائل یا احکام سے مراد دین کا خارجی ڈھانچہ ہے۔
مثال کے طور پر ایمان کو لیجیے۔ فقہی اعتبار سے ایمان یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی زبان سے کہے کہ: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشhed أن محمداً عبده و رسوله۔ جس شخص نے اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کر دیے، وہ فقہی مسئلے کے اعتبار سے مومن بن گیا، لیکن جہاں تک ایمان کی معرفت کی بات ہے، وہ اس قسم کے تلفّظ سے الگ ایک چیز ہے۔ وہ کسی شخص کو ذہنی انقلاب (intellectual revolution) کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ محض ادائگی الفاظ کے ذریعے۔ معرفت والا ایمان کیا ہے، اس کو قرآن کی اس آیت سے سمجھیے: وإذا سمعوا ما أنزل إلى الرسول ترى أعينهم تفيض من الدمع مما عرفوا من الحق (الأنعام: 83) اس آیت میں ایک ایسے گروہ کا ذکر ہے، جو قرآن کی کچھ آیتوں کو سن کر ایمان لایا۔ انھوں نے بھی اُسی طرح اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues