معرفت دین، احکام دین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۷
زبان سے کلمۂ ایمان ادا کیا، لیکن اُن کی یہ ادائگی ایک قلبی عرفان کی بنیاد پر تھی۔ ان کا یہ عرفان حق اتنا گہرا تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ پڑا۔
ایمان کی نسبت سے اوپر جو بات کہی گئی، وہی دین کی تمام باتوں کے لیے درست ہے۔ دین کی تمام تعلیمات کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا ایک پہلو وہ ہوتا ہے، جو نص کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے، اور اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جو نص کے الفاظ پر گہرے غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے۔ دین میں گہری معرفت حاصل کرنے کی شرط کیا ہے۔ اس کی واحد شرط تقویٰ ہے، یعنی خدا کا خوف۔ معرفت کی یہ شرط قرآن سے ثابت ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اتّقوا الله ويعلمكم الله (البقرہ: 282)۔ یعنی تم اللہ سے ڈرو اور پھر اس ڈر کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کی توفیق سے تم دین کے گہرے علم تک پہنچ جاؤ گے۔ دین کے ظاہری احکام کو جاننے کے لیے خوفِ خدا کی ضرورت نہیں، اس کے لیے فقہ کی کتابوں کو پڑھ لینا کافی ہے۔ لیکن دین کے معرفت والے حصے تک پہنچنا، صرف اُس شخص کے لیے ممکن ہے جو خدا سے ڈرنے والا ہو، خدا کے خوف نے جس کو مَین کٹ ٹو سائز (man cut to size) بنا دیا ہو۔ اس معاملے میں ایک حدیث پر غور کیجیے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليقل خيراً أو ليصمت (صحیح البخاری، كتاب الادب) یعنی جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہیے کہ وہ خیر کی بات بولے، ورنہ چپ رہے۔ یہ حدیث ہم کو کلام تقویٰ کی ایک پہچان دیتی ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ جس آدمی کے دل میں اللہ کا ڈر سمایا ہوا ہو، وہ اگر کسی کے خلاف بولے گا تو وہ صرف اُس وقت بولے گا، جب کہ اس کے پاس اپنے قول کے حق میں نا قابلِ انکار دلیل موجود ہو۔ اگر اس کے پاس ایسی دلیل نہ ہو تو وہ اس موضوع پر بالکل خاموش رہے گا۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایسا کرنا کہ آدمی کسی شخص کے بارے میں ایک مخالفانہ بیان دے (negative remark)، لیکن وہ صرف ایک مجرّد بیان ہو، اس بیان کے ثبوت کے لیے کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو، تو ایسا بیان یقینی طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آدمی خوفِ خدا سے کانپنے والا آدمی نہیں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues