Al-Risala · December 2008 · page 22

امرِ موعود، امرِ مقصود

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۲

دعوہ ایکٹوزم، پولیٹکل اسٹیٹس کو ازم Dawah Activism, Political Status quoism قرآن کی سورہ نمبر 74 نبوت کے ابتدائی دور کی سورہ ہے۔ اس میں پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ : قم فأنذر (المدثر : 2) یعنی اٹھو اور لوگوں کو آگاہ کر دو۔ اس کے بعد اسی سورہ میں فرمایا: ولربک فاصبر ، یعنی دوسرے معاملات میں صبر کا طریقہ اختیار کرو۔ یہ پیغمبرانہ لائحہ عمل تھا۔ یہ لائحہ عمل دو بنیادی اصولوں پر مبنی تھا۔ یہ بنیادی اصول دوسرے لفظوں میں یہ تھے ۔ دعوہ ایکٹوزم (dawah activism) اور پولیٹکل اسٹیٹس کو ازم (plitical status quoism)۔

اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک، اسلام کا وہ حصہ جس کا تعلق فکر اور عقیدہ سے ہے۔ اس کو اسلام کی آئیڈیالوجی کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق اس آئیڈیالوجی کی بنیاد پر بننے والے عملی ڈھانچے سے ہے۔ مثلاً اسلام کا اجتماعی اور سیاسی نظام۔

نظریاتی معنوں میں ، اسلام کی آئیڈیالوجی کی بات کی جائے تو دوسروں کے ساتھ کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آتا، لیکن اجتماعی اور سیاسی نقشے کا تعلق براہ راست طور پر دوسروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس نقشے کو اُس وقت عمل میں لایا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرے لوگوں کے اندر اس کی قبولیت (acceptance) پیدا ہو جائے۔ اگر دوسرے لوگوں کے اندر قبولیت پیدا نہ ہوئی ہو، تو اجتماعی نقشے کو بدلنے کی کوشش صرف ٹکراؤ پیدا کرے گی۔ اور اس قسم کا ٹکراؤ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسی حالت میں حکیمانہ طریقہ صرف یہ ہے کہ عملی نقشے کو علی حالہ باقی رکھتے ہوئے پُر امن دعوتی جدوجہد کی جائے۔ پیغمبرانہ نمونے کے مطابق، یہی اسلامی کام کا صحیح طریقہ ہے۔ کسی عمل کی قدر و قیمت کا معیار اس کا نتیجہ ہے، نہ کہ نظریہ۔ ایک کام نظریاتی طور پر اچھا معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ الٹا نکلنے والا ہو تو نظریاتی حسن کے باوجود ایسے کام کو نہیں کیا جائے گا۔ یہی عمل کا واحد دانش مندانہ طریقہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page