سیاسی اقتدار کی حیثیت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۳
سیاسی اقتدار کی حیثیت
جنگ بدر (17 رمضان، 2 ہجری) میں مسلمانوں کو اپنے مخالفین کے اوپر فتح حاصل ہوئی۔ اور جنگ اُحد (6 شوال، 3 ہجری) میں اُنھیں اپنے مخالفین کے مقابلے میں شکست ہو گئی۔ اس پس منظر میں قرآن کی سورہ نمبر 3 میں یہ آیت اتری: تلک الأيام نداولها بين الناس (آل عمران: 140) یعنی ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔
اس آیت کا ایک تعلق وقتی حالات کے اعتبار سے ہے، اور دوسرے اعتبار سے اس میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، ایک ایسا قانون جس کا تعلق تمام اجتماعی معاملات سے ہے۔ مثلاً فتح و شکست، سیاسی اقتدار کا ملنا اور نہ ملنا، امیری اور غریبی، وغیرہ۔
اصل یہ ہے کہ یہ دنیا دار الامتحان (testing ground) ہے۔ اس دنیا میں کسی کو جو چیز ملتی ہے، وہ پرچہ امتحان (test paper) کے طور پر ملتی ہے، نہ کہ رحمت اور انعام کے طور پر۔ یہی معاملہ سیاسی اقتدار کا ہے۔ سیاسی اقتدار بھی ایک پرچہ امتحان ہے۔ کسی گروہ کو سیاسی اقتدار کا ملنا ہمیشہ امتحان کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ انعام خداوندی کے طور پر۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار پر کسی گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہوتی۔ خدا کو ہر ایک کی آزمائش کرنا ہے، اس لیے خدا، سیاسی اقتدار کبھی ایک گروہ کو دیتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ ایسی حالت میں اگر ایسا ہو کہ کسی گروہ کو سیاسی اقتدار ملا اور پھر وہ اُس سے چھن گیا، تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ خدا نے پہلے سیاسی اقتدار کے ذریعے میرا امتحان لیا تھا اور اب اٗس نے کسی دوسرے گروہ کے امتحان کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی اقتدار کے چھننے پر شکایت یا احتجاج کرنا صرف اس بات کا ثبوت دینا ہے کہ میں امتحان میں ناکام ہو گیا۔ موجودہ دنیا میں صحیح زندگی گزارنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہر چیز کو امتحان کا پرچہ سمجھے۔ وہ کسی حالت کو نہ انعام سمجھے اور نہ سزا۔ زندگی کا یہی تصور خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق ہے۔ اسی میں دنیا کی کامیابی بھی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues