Al-Risala · December 2008 · page 25

ختم فتنه کا دور

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵

پہلی بار قدیم بادشاہت کے زمانے میں، اور دوسری بار جدید کمیونسٹ ایمپائر کے زمانے میں۔ یہ دونوں نظام، خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھے۔ اس لیے خدا نے ایسے حالات پیدا کیے کہ ان دونوں نظاموں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ قدیم بادشاہت کے تحت قائم ہونے والے نظام کو دور اول کے اہل اسلام کے ذریعہ ختم کیا گیا تھا، اور جدید کمیونسٹ ایمپائر کے نظام کو ختم کرنے کے لیے امریکا کو ذریعہ بنایا گیا ۔ یہ ایک خدائی انتقام تھا کہ تشدد کا استعمال کیے بغیر کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی جبر کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب ہر ملک میں کامل معنوں میں، مذہبی آزادی (religious freedom) حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کے تحت، تمام ملکوں نے اجتماعی طور پر مذہبی آزادی کا حق ہر ایک کے لیے تسلیم کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہر ملک کے دستور میں، بشمول ہندوستان، مذہبی آزادی کا حق ہر عورت اور مرد کو مکمل طور پر عطا کیا گیا ہے۔ اس عالمی تبدیلی کے بعد اب جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ اس ملی ہوئی آزادی کو بھر پور طور پر استعمال کیا جائے اور خدا کے دین کو ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر کے اندر پہنچادیا جائے، جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے (لايبقى على ظهر الأرض بيتُ مدرٍ ولا وبرٍ إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔

قرآن کے مطابق، خدا نے انسان کو ابتلا کے لیے پیدا کیا ہے (الملک : 2)، یعنی دنیا میں انسان کو بسا کر اس کو کامل آزادی دی گئی ہے، تاکہ وہ جس طرح چاہے رہے اور پھر اپنے عمل کے مطابق، آخرت میں سزا اور انعام پائے۔ قرآن ، تخلیق کے اسی خدائی نقشے کی تفصیل ہے۔ موجودہ دنیا میں فتنہ کی حالت (مذہبی جبر کی حالت) خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ وہ خدا کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ خدا اپنی دنیا میں اس قسم کی مداخلت کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ ضرور اس کو ختم کردے گا، کبھی ایک انسانی گروہ کے ذریعے اور کبھی دوسرے انسانی گروہ کے ذریعے ۔ یہ معاملہ خدائی آپریشن کا معاملہ ہے۔ اس قسم کا آپریشن فرشتوں کے ذریعے انجام نہیں دیا جاتا، بلکہ اسباب و علل کا پردہ باقی رکھتے ہوئے، اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ مذکورہ دونوں واقعات اسی کی تاریخی مثالیں ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page