Al-Risala · December 2008 · page 26

معیاری فرد، معیاری سماج

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۶

معیاری فرد، معیاری سماج

اس دنیا میں معیاری فرد کا بننا ممکن ہے، لیکن معیاری سماج کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ کوئی آدمی اپنے ذاتی فیصلے کے تحت، اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک انسان کے بننے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کے اندر انفرادی قوت ارادی (will power) پیدا ہو جائے، لیکن پورے سماج کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ قوت ارادی ایک فرد کے اندر ہوتی ہے، پورے سماج کے اندر اجتماعی قوت ارادی (collective will) صرف ایک خیالی تصور ہے، عملی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بار بار ایسے افراد پیدا ہوئے جو اپنی ذات کے اعتبار سے معیاری کردار کے حامل تھے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پورا سماج، یا پورا اجتماعی نظام اپنے کردار کے اعتبار سے، معیاری سماج یا معیاری نظام بن جائے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، ہر عورت اور ہر مرد کو مکمل آزادی عطا فرمائی ہے۔ کوئی بھی شخص یا حکومت اس آزادی کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ آزادی کا مطلب ہے ایک سے زیادہ اختیار (options) کا ممکن ہونا۔ اس اختیار کی بنا پر ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کچھ افراد آزادی کا صحیح استعمال کریں گے اور کچھ افراد آزادی کا غلط استعمال کریں گے۔ یہی واقعہ پورے سماج کی سطح پر معیاری نظام قائم کرنے کو عملاً ناممکن بنا دیتا ہے۔

اسی بنا پر ایسا ہے کہ اسلام میں فرد کو عمل کا نشانہ قرار دیا گیا ہے، نہ کہ سماج کو۔ افراد اگر بڑی تعداد میں اصلاح یافتہ ہو جائیں، تو اس کا اثر سماج تک بھی پہنچے گا۔ اس معاملے کی مثالیں تاریخ میں کثرت سے موجود ہیں، اسلامی سماج میں بھی اور سیکولر سماج میں بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ معیاری سماج، آخرت کی دنیا میں بنے گا، نہ کہ موجودہ دنیا میں۔ موجودہ دنیا میں معیاری سماج بنانے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ لوگوں سے ان کی آزادی سلب کر لی جائے ۔ اور ایسا صرف اس وقت ہوگا جب کہ خدا کے حکم سے فرشتہ اسرافیل قیامت کا صور پھونک دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page