Al-Risala · December 2008 · page 30

جموں و کشمیر کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰

جموں و کشمیر کا مسئلہ

امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین کو لے کر جموں وکشمیر میں جولائی 2008 میں ایجی ٹیشن (agitation) شروع ہوا۔ ایک مہینے سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود، اب تک وہ شدید طور پر جاری ہے۔ پہلے مرحلے میں، مسلم انتہا پسند (Muslimextremists) گروپ نے یہ ایجی ٹیشن چلایا تھا۔ اب دوسرے مرحلے میں، ہندو انتہا پسند (Hindu extremists) گروپ یہ ایجی ٹیشن چلا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ریاست کے باشندے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ریل اور روڈ کے تمام راستے بند ہیں۔ ضروری اشیا کی آمد و رفت نہیں ہورہی ہے۔ تجارتی سرگرمیاں منقطع ہیں ۔ اس کے نتیجے میں لوگوں کو نا قابلِ برداشت قسم کے انسانی مسائل کا سامنا ہے۔

ہمارے ملک میں جمہوریت ہے، آزادی ہے، سیکولر ازم ہے، یہاں ہر شخص کو حق ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے کوشش کرے۔ لیکن اس کوشش کی کچھ شرطیں ہیں۔ ان شرطوں کو اگر ملحوظ نہ رکھا جائے، تو ملک میں فساد پھیلے گا اور جمہوریت ایک قسم کی انارکی (anarchy) بن جائے گی۔ وہ شرط یہ ہے کہ ہر شخص اور ہر گروہ یہ تسلیم کرے کہ ہر حق سے اوپر ملک کا حق ہے۔ ملک کو نقصان پہنچانے کی قیمت پرکسی کو بھی اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کرنا جائز نہیں۔

اپنے حقوق (rights) کے لیے کوشش کی جائز صورت صرف یہ ہے کہ اُس کو امن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے۔ جو لوگ امن اور قانون کو توڑ کر اپنی تحریک چلائیں، اُن کو ملک کا خیر خواہ (well-wishet) نہیں کہا جاسکتا۔

جموں کے علاقے میں، امرناتھ یاترا کو زیادہ منظم انداز میں انجام دینے کے لیے امرناتھ شرائن بورڈ نے گورنمنٹ سے سوا یکڑ (800 کنال) کی ایک زمین حاصل کی ۔ یہ زمین پہلے سے امرناتھ یاتریوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اب اُس کو مزید بہتر بنانے کے لیے یہ اقدام کیا گیا ۔ امرناتھ شرائن بورڈ میں کچھ ممبر، ریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھتے تھے۔ اور کچھ ممبر، ریاست جموں وکشمیر

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page