کم زور دفاع
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹
نہیں کرے گا کہ اورہ کنکری سے اپنے دشمن کو مارنے لگے۔ یہی معاملہ تنقید کا ہے۔ ایک ناقد کے پاس اگر علمی دلیل ہو، تو یہ ممکن نہیں کہ وہ عیب زنی اور الزام تراشی کے ذریعے اپنے حریف کا مقابلہ کرے۔ ایسا آدمی لازمی طور پر علمی دلائل کے ذریعے تنقید کرے گا۔ اس لیے جو لوگ ہمارے مشن کے خلاف الزام تراشی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ان کے پاس علمی دلائل موجود نہیں ہیں۔ اگر ان کے پاس علمی دلائل موجود ہوتے، تو وہ ہرگز کم زور دفاع کا موجودہ طریقہ اختیار نہ کرتے۔ اسی طرح کی ایک مثال موجودہ زمانے کے مسلم علماء کے یہاں ملتی ہے۔ یہ علماء کچھ لوگوں کو گم راہ، یا بد دین سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے خلاف تقریر و تحریر کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ مثلاً منکرین حدیث، منکرین ختم نبوت، وغیرہ مسلم علماء ان'' منکرین‘‘ کے خلاف کتابیں چھاپتے ہیں اور جلسے کرتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں، مگر یہ سب میرے نزدیک کم زور دفاع کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کے لفظی ہنگاموں، یا مخالفانہ فتویٰ شائع کرنے سے ’’منکر‘‘ گروہوں کا نہ اب تک کوئی نقصان ہوا ہے اور نہ آئندہ اس سے ان کا کوئی نقصان ہوگا۔
اصل کام یہ ہے کہ ان ’’منکرین‘‘ کے نظریے کا گہرا مطالعہ کرکے، اُن کے اٗس نظریے کو سمجھا جائے جس کے اوپر انھوں نے اپنی بنیاد کھڑی کی ہے اور پھر علمی دلائل کے ذریعے اس نظریے کا باطل ہونا ثابت کیا جائے۔ علماء کا موجودہ طریقہ بلا شبہ ایک کم زور دفاع ہے، اور کم زور دفاع کا یقینی طور پر کوئی فائدہ نہیں۔ کم زور دفاع خود اپنی کم زوری کا اعلان ہے، نہ کہ دوسرے کی تردید یا دفاع۔ مقابلے کی اس دنیا میں آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہے— صبر یا حقیقی دفاع۔ آدمی یا تو نتیجہ خیز دفاع کرے، اور اگر وہ نتیجہ خیز دفاع کی پوزیشن میں نہ ہو تو وہ صبر کرلے۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ اگر آدمی نزاعی معاملے میں یک طرفہ طور پر صبر کرے، تو حالات خود بخود اس کی طرف سے خاموش دفاع کرنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے نتیجہ دفاع کرنا، فطرت کے عمل کو روکنے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بے نتیجہ دفاع صرف ایک نادانی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی دفاعی عمل۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues