آزادی خیرِاعلیٰ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵
آزادی خیرِاعلیٰ
جان اسٹارت مل (John Stuart Mill) انیسیں صدی عیسوی کا مشہور انگلش فلاسفر ہے۔ وہ 1806 میں پیدا ہوا، اور 1873 میں اس کی وفات ہوئی۔ فرد (individual) کے مقابلے میں اجتماع (society) کی آزادی (liberty) کا تصور سب سے پہلے اُس نے باقاعدہ صورت میں پیش کیا۔ اس سلسلے میں اس کی حسب ذیل کتاب بہت مشہور ہوئی:
Essay on Liberty (1859)
اس کے بعد اس موضوع پر بہت زیادہ لکھا گیا اور اس کی حمایت میں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، مغربی دنیا میں بھی اور مشرقی دنیا میں بھی، یہاں تک کہ عمومی طور پر یہ مان لیا گیا کہ فرد کی آزادی اؔس کے لیے خیرِاعلیٰ (summum bonum) کی حیثیت رکھتی ہے۔
فرد کی آزادی بلا شبہ ایک اچھی چیز ہے، لیکن آزادی کو خیرِاعلیٰ سمجھ لینا، سخت تباہ کن ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان بیک وقت دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک طرف، خالق کا قائم کردہ فطرت کا نظام، اور دوسری طرف، انسانوں پر مشتمل سماجی نظام۔ فرد پر لازم ہے کہ وہ ان دونوں سے موافقت کر کے زندگی گزارے۔ اس کے سوا کوئی اور طرزِ زندگی یہاں ممکن نہیں۔ فطرت کے نظام سے عدم موافقت کا نتیجہ اپنی ہلاکت ہے، اور اجتماعی نظام سے عدم موافقت کا نتیجہ سماجی اباحیت (social permissiveness) ۔ اور فرد کی آزادی کے یہ دونوں نتیجے تباہ کن حد تک نا قابلِ عمل ہیں۔
فرد کے لیے مطلق آزادی کا تصور بلا شبہ تباہ کن ہے۔ البتہ محدود و آزادی کا تصور ایک صحت بخش تصور ہے، وہ انسان کی ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس دنیا میں انسان کو آزادی حاصل ہے۔ آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہے، لیکن سماجی زندگی میں بے قید آزادی قابلِ عمل نہیں۔ سماجی زندگی میں جو چیز ممکن ہے، وہ محدود آزادی ہے، نہ کہ بے قید آزادی۔ بے قید آزادی کا نتیجہ انارکی (anarchy) ہے، اور محدود و آزادی کا نتیجہ صحت مند ترقی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues