بے اطمینانی کا سبب
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
بے اطمینانی کا سبب
ٹاٹا انڈسٹری کے چیرمین مسٹر رتن ٹاٹا (72 سال) نے لمبی کوشش کے بعد ایک نئی چھوٹی کار بنائی ہے۔ اس کار کا نام نانو (Nano) ہے۔ اس کی قیمت صرف ایک لاکھ روپے ہے۔ اس کو دنیا کی سب سے سستی کار (cheapest car on earth) کہا جاتا ہے۔
نئی دہلی (پرگتی میدان) میں اس کار کی نمائش کی گئی تو اس کو دیکھنے کے لیے بہت بڑی بھیڑ اکٹھا ہوگئی۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسرت رتن ٹاٹا نے بظاہر بے شمار نئے لوگوں کے لیے سستی کار کی شکل میں ایک پُرمسرت تحفہ دیا، لیکن خود رتن ٹاٹا کو روحانی خوشی حاصل نہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (11 جنوری (2008 کی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے کہا کہ میں اپنے آپ کو اپنی زندگی کے بہت زیادہ تنہائی کے دور میں پاتا ہوں:
I am in a very lonely phase of my life (p. 1)
یہ کوئی انفرادی مثال نہیں۔ یہی اُن تمام لوگوں کی کہانی ہے جو اپنی ساری توانائی مادی چیزوں کے حصول میں لگا دیتے ہیں۔ جو اس طرح رہتے ہیں گویا کہ زندگی کا مقصد مادی ترقی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایسے لوگ جب اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچتے ہیں، تو اُن کو محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر مادی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اُن کو اندرونی خوشی حاصل نہیں۔ وہ اسی طرح جیتے ہیں، یہاں تک کہ مایوسی (despair) کی حالت میں مر جاتے ہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی روح کے لیے سب سے زیادہ ربانی غذا کی ضرورت ہے۔ صرف مادی غذا انسان کی فطرت کو ایڈریس نہیں کرتی۔ بظاہر خوش خوراکی کے باوجود اس کی داخلی شخصیت، روحانی فاقہ (spiritual starvation) میں مبتلا رہتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ألا بذكر الله تطمئن القلوب (الرّعد: (28) یعنی سن لو کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues