Al-Risala · December 2008 · page 37

بحران کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷

بحران کا مسئلہ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ اکثر آرٹ آف کرائسس مینج منٹ (art of crisis management) کی بات کرتے ہیں۔ یہ نہایت اہم موضوع ہے۔ یہ ہر آدمی کا ایک ذاتی مسئلہ ہے۔ ہر آدمی کبھی نہ کبھی کرائسس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کا کارگر فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا کارگر فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب زندگی میں کوئی کرائسس آئے ، تو اس کو خدا کے حوالے کر دیا جائے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کی بابت، صحابی رسول، حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا: الخـيــر فـيـمـا وقع، یعنی جو کچھ پیش آئے، اس کو آدمی خدا کی طرف سے سمجھے اور اس پر راضی ہو جائے۔ اسی حقیقت کو ایک فارسی مقولے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :

دشمن اگر قوی است، نگہباں قوی تر است

یعنی دشمن اگر قوی ہے، تو نگہبان اس سے بھی زیادہ قوی ہے:

If enemy is strong, the savier is stronger.

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ پیش آتا ہے، وہ براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ انسان کا حصہ اُس میں صرف یہ ہے کہ وہ منفی رسپانس (negative response) دیتا ہے، یا مثبت رسپانس (positive response)۔ حالات کا اہتمام خدا کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انسان کا حصہ اُس میں صرف یہ ہے کہ وہ یا تو ایک قسم کا رسپانس دے کر کریڈٹ (credit) پاتا ہے، یا دوسرے قسم کا رسپانس دے کر اپنے آپ کو ڈس کریڈٹ (discredit) کر لیتا ہے۔

ایسی حالت میں انسان کے بارے میں بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے صبری سے بچائے اور بہتر انجام کے لیے خدا سے دعا کرتا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں صبر بھی ایک عمل ہے اور دعا بھی ایک عمل۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page