Al-Risala · December 2008 · page 41

بے مسئلہ انسان

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۱

بے مسئلہ انسان

اس دنیا میں کامیاب زندگی کے دو اہم اصول ہیں ۔ یا تو دوسروں کے لیے نفع بخش (useful) انسان بنئے، یا دوسروں کے لیے بے مسئلہ انسان (no problem person) بن جائیے ۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کے یہی دو اصول ہیں، ان کے سوا کوئی تیسرا اصول نہیں۔ اگر کوئی تیسرا اصول ہے تو وہ ہلاکت ہے، نہ کہ کامیابی۔

ایک شخص جب دوسروں کے لیے نفع بخش بنتا ہے تو وہ دوسروں کی نظر میں محبوب بن جاتا ہے۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مجبور ہے کہ وہ دینے والے کا احسان مانے، وہ فائدہ پہنچانے والے کا اعتراف کرے۔ جو اُس کے کام آئے، اُس کا دل اُس کے لیے جھک جائے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے نفع بخش بنتا ہے تو وہ فطرت کی اِس سطح پر دوسرے انسان کا مطلوب شخص (wanted person) بن جاتا ہے۔

اس نفع بخشی کا تعلق صرف بڑی بڑی چیزوں سے نہیں، کسی کو چھوٹی چیز دے کر بھی آپ اس کا دل جیت سکتے ہیں، اور اگر آپ کے پاس کچھ بھی دوسروں کو دینے کے لیے نہ ہو تو آپ صرف اتنا کیجئے کہ آپ دوسروں سے میٹھا بول بولیے، آپ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کیجیے، دوسروں کے حق میں خدا سے دعا کیجئے، یہ سب چیزیں بھی نفع بخشی کا درجہ رکھتی ہیں۔

اگر آپ دوسروں کے لیے کچھ بھی نہ کر سکیں، تب بھی آپ کے لیے ایک کام ہر حال میں ممکن ہوتا ہے، وہ یہ کہ آپ دوسروں کے لیے بے مسئلہ انسان (no problem person) بن جائیے۔ اگر آپ دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو آپ دوسروں کو نقصان بھی نہ پہنچائیے۔ آپ اس کا اہتمام کیجئے کہ آپ اپنے ساتھی یا اپنے پڑوسی کے لیے کسی بھی اعتبار سے ناگواری (nuisance) کا سبب نہ بنیں۔ اگر آپ صرف اتنا کریں کہ اپنے کام سے کام رکھیں اور دوسروں کے کام میں دخل نہ دیں، تب بھی آپ دوسروں کے لیے باعث رحمت بن جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page