Al-Risala · December 2008 · page 42

Idealism can not be achieved in this world.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۲

سوال و جواب سوال عرض ہے کہ میں ازدواجی زندگی کے مسائل میں گھرا ہوا ہوں۔ مجھ کو اپنی بیوی کی طرف سے مسلسل شکایت رہتی ہے۔ وہ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا ذہنی معیار بہت پست ہے۔ اس لیے گھر میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے میں سخت قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوں۔ براہ مہربانی، میرے اس مسئلے کا کوئی حل تجویز فرمائیں (ایک قاری الرساله، جموں و کشمیر)۔

جواب

آپ جس ذہنی تناؤ میں مبتلا ہیں، اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اس کا سبب خود اپنے اندر ڈھونڈنا۔ اب تک آپ اس کا سبب فریق ثانی کے اندر ڈھونڈتے رہے۔ اب آپ یہ کیجیے کہ اس کا سبب اپنے اندر تلاش کیجیے اور خود اپنے آپ کو بدلیے۔ آپ کے مسئلے کا یہی واحد حل ہے، اس کے سوا کوئی اور ممکن حل موجودنہیں۔

اصل یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے، تو وہ فوراً یہ کرتا ہے کہ خود اپنے ذہنی معیار کے مطابق ، اُس کا حل تلاش کرنے لگتا ہے۔ مگر جب اس کے خود ساختہ فارمولے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، تو وہ فریق ثانی کو الزام دینے لگتا ہے۔ اس کی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ میں تو صحیح ہوں، یہ دراصل دوسرا فریق ہے جو مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔ یہ آئڈیل ازم (idealism) کا طریقہ ہے، مگر اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ۔ یہاں آئڈیل ازم کبھی حاصل نہیں ہوتا:

Idealism can not be achieved in this world.

آپ کے لیے ذہنی تناؤ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ پریکٹیکل طریقہ ہے، یعنی یہ دیکھنا کہ موجودہ صورت حال میں عملی طور پر کیا ممکن ہے، نہ یہ کہ معیاری اعتبار سے کیا ہونا چاہئے۔ اسی طریقے کا نام حکمت ہے۔ اور ہر مسئلہ صرف حکمت کے ذریعے حل ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page