Al-Risala · December 2008 · page 47

Basic Human Values in Islam

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۷

ہوں۔ میں قرآن کو پڑھتا ہوں۔ مجھ میں اور اُس گنوار آدمی میں کیا فرق رہا۔ یہ سوچ کر میں بے چین ہو گیا۔ میں اُس آدمی کے گھر گیا۔ میں نے اُس سے معافی مانگی اور اس کا ریڈیو اس کو واپس کر دیا ۔ یہ سب الرسالہ کی مثبت تربیت کا نتیجہ تھا کہ میں نے بلا جھجھک اُس آدمی سے معافی مانگ لی اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا (کشن جے ونت راؤ پٹیل، مکھیڈ ، مہاراشٹر ، یکم ستمبر 2008 )۔

10- My heartfelt appreciation of Maulana Wahiduddin Khan's excellent analysis of "Modern Atheism" (Al-Risala, August 2008, Page 23). In many years this is the first Urdu article on a complex subject that has provided our Urdu readers with a to-the-point analysis of the trends that are confusing Man's intellectual horizons. Maulana Wahiduddin Saheb has covered in less than three pages the entire history of intellectual journey of different philosophical theories which in a stand alone position appeared to be an enormous truth, but in their own self analysis did not provide any logical compelling reason for that "Cause". I will pray for the health, and longevity of Maulana Saheb. May Allah enhance his darajat and bless him with the sense of His 'eternal knowledge'. Ameen. If you permit me, I would then give it to a respectable Urdu newspaper. The English translation would also be very helpful to that young generation of Muslim Americans that does not know Urdu. (Syed Wahajuddin Ahmed, Chicago, July 21, 2008)

11- دہلی میں الرسالہ مشن کے بعض ساتھیوں نے دعوت کا ایک نیا تجربہ کیا۔ وہ اپنے علاقے کے قریبی بینک، میڈیکل اسٹور اور اے ٹی ایم (ATM) کے ذمے داروں سے ملے۔ انھوں نے ذمے داروں کو ہمارے یہاں سے چھپا ہوا لٹریچر پیش کیا اور کہا کہ سر، اگر آپ اجازت دیں تو ہم ’پیں اور اسپرچولٹی‘ پر مشتمل یہ لٹریچر آپ کے یہاں رکھ دیں، تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انھوں نے بہت خوشی سے اجازت دے دی۔ اب ہمارے ساتھیوں نے یہ کیا کہ مارکیٹ سے انھوں نے ایک خوب صورت ٹرانس پیرنٹ اسٹینڈ حاصل کیا اور اس میں بروشر اور لیفلٹس رکھ کر اُن جگہوں پر پہنچا دیا۔ یہ تجربہ بہت کامیاب ثابت ہوا۔ معلوم ہوا کہ صبح کو جو لٹریچر رکھا گیا تھا، وہ شام تک ختم ہو گیا۔ ہمارے دوسرے ساتھیوں کو چاہیے کہ وہ اس دعوتی تجربے سے فائدہ اٹھائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچانے کی کوشش کریں۔ البتہ جو لوگ اس کام کو شروع کریں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ کامل ذمے داری اور ڈسپلن کے ساتھ اس کو انجام دیں اور ان مقامات کی مسلسل نگرانی کریں۔ مثلاً لٹریچر ختم ہو جانے کی صورت میں وہ اپنی ذمے داری پر دوبارہ وہاں لٹریچر پہنچائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page