Al-Risala · December 2008 · page 46

Basic Human Values in Islam

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶

5- نئی دہلی کے ہفت روزہ انگریزی میگزین (The Sunday Indian) کے نمائندہ مسٹر نحیت بھوشن نے 25 اگست 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو مسلم ایکسٹریم ازم (Muslim Extremism) کے موضوع پر تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلم ایکسٹریم ازم دراصل موجودہ سیاسی حالات کا ایک ردعمل ہے۔ اس میں شدت اس لیے آئی کہ کچھ لوگوں نے اسلام کا پولیٹیکل انٹروپریٹیشن کر کے اس کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ انھوں نے مسلمانوں کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ اس کے بغیر اُن کو جنت نہیں ملے گی۔ بتایا گیا کہ ہمارا مشن خاص طور پر یہی ہے کہ اس ایکسٹریم ازم کو نظریاتی اعتبار سے ختم کیا جائے۔

6- نئی دہلی کے ٹی وی پی ایس بی ٹی (PSBT) کے زیر اہتمام انڈیا ہیبی ٹیٹ سنٹر میں 16 ستمبر 2008 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ اس میں دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے ۔ اس کا موضوع 'صوفی ازم‘ (Sufism) تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور آدھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ صوفی ازم کے دو خاص پہلو ہیں جو آج بھی بہت اہمیت رکھتے ہیں—اسپرچوئلیٹی (spirituality) اور (peace)۔ اسپرچوئلیٹی کا تعلق فرد سے ہے، اور پیس کا تعلق سماج سے۔

7- نئی دہلی کے ڈی ڈی نیوز (DD News) ٹی وی نے 16 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک ویڈیو ریکارڈ کیا۔ انٹرویور مسٹر ونود کمار چودھری تھے۔ اس تفصیلی انٹرویو کا موضوع تھا— رمضان کا پیغام، اور تشدد کے بارے میں اسلام کی تعلیم۔ ان دونوں موضوعات پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا گیا۔ 8- ماہ نامہ الرسالہ کا شمارہ اکتوبر 2008 صوم رمضان کے موضوع پر شائع ہوا ہے۔ اس شمارے سے رمضان کے مختلف پہلوؤں پر چار بروشر بنائے گئے—روزہ کی حقیقت، روزہ اور قرآن، روزہ اور اخلاق، عید الفطر اور رمضان۔ اردو زبان میں چھپے ہوئے یہ خوب صورت بروشر رمضان کے مہینے میں بڑی تعداد میں مختلف مساجد میں تقسیم کیے گئے۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔

9- ایک خط: محترم مولانا وحید الدین خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ میں پہلے دن سے الرسالہ پڑھتا ہوں۔ اللہ کے فضل سے، الرسالہ کا مقصد بخوبی طور پر جانتا ہوں ۔ میری زندگی میں اس کے کئی واقعات ہیں۔ اُس میں سے ایک واقعہ جو حال میں پیش آیا، وہ آپ کو لکھ رہا ہوں ۔ میری تھوڑی سی کھیتی ہے۔ آپ بھی 1975 میں وہاں آچکے ہیں۔ میری اسی کھیتی میں ایک آدمی کئی دن سے چھپ چھپ کر اپنا جانور چرا رہا تھا۔ ایک دن اتفاق سے میں وہاں پہنچ گیا۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا۔ میں غصے سے بے قابو ہو گیا۔ میں نے اُس آدمی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ریڈیو تھا۔ وہ میں نے اُس کے ہاتھ سے چھین لیا اور وہاں سے اُس کو بھگا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب میرا غصہ ٹھنڈا ہوا تو میرے دل نے کہا کہ تم نے یہ غلط کام کیا ہے۔ اب میرے سامنے وہ آدمی نہیں رہا، بلکہ خدا میرے سامنے آ گیا ۔ میں سوچنے لگا کہ میں تقریباً تیس سال سے الرسالہ پڑھ رہا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2008 All issues

Printed page