Al-Risala · February 2008 · page 16

ففٹی ففٹی کا معاملہ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۶

ففٹی ففٹی کا معاملہ

قرآن کی سورہ نمبر 28 میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّكَ لاَ تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (القصص: 56)۔ یعنی تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے، اُس کو ہدایت دیتا ہے۔ اور وہی خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔

قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا معاملہ کسی انسان کے لیے ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے، یعنی اُس کا پچاس فی صد تعلق، داعی کی دعوت سے ہے۔ دعوت کی تعریف قرآن کے مطابق، یہ ہے کہ اُس کو اِس طرح پیش کیا جائے کہ وہ مدعو کے دل میں اُتر جائے (النساء: 63)۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ بات کو اِس طرح کہا جائے کہ وہ سننے والے کے مائنڈ کو ایڈریس کرے۔ مثلاً ایک شخص جس کے اندر ریشنل تھنکنگ ہو، اُس کے سامنے اگر دعوت کو ٹریڈیشنل انداز میں پیش کیا جائے تو اس کا مائنڈ ایڈریس نہیں ہوگا۔ اِس کا نام حکمتِ تبلیغ ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ حکمتِ تبلیغ کا پورا لحاظ کرتے ہوئے دعوت کا کام کرے۔

قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، ہدایت کا دوسرا نصف حصہ مشیتِ خداوندی سے تعلق رکھتا ہے۔ یہاں مشیتِ خداوندی سے مراد فطرتِ خداوندی ہے۔ قرآن کا یہ اسلوب ہے کہ اس میں فطرت کے قانون کو خدا کی طرف منسوب کر کے بتایا جاتا ہے۔ آیت کے الفاظ بظاہر یہ ہیں کہ ”بلکہ جس کو اللہ چاہے“، لیکن اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت اور تبلیغ کے باوجود ہدایت صرف اُس کو ملتی ہے، جو خود بھی طالبِ ہدایت ہو۔ اگر مدعو طالبِ ہدایت نہیں ہے تو داعی کی یک طرفہ کوشش سے اُس کو ہدایت نہیں مل سکتی۔

طالبِ ہدایت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کو ہدایت کے معاملے میں اُسی طرح متحرک کرے، جس طرح وہ دنیوی معاملات میں اپنے ذہن کو متحرک کرتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کو دولت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page