ففٹی ففٹی کا معاملہ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۷
حاصل ہو جائے تو وہ احساسِ برتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہاں ضرورت تھی کہ وہ اپنے ذہن کو استعمال کر کے یہ سمجھے کہ دولت کا تعلق دنیا کی ضرورتوں سے ہے، دولت کا تعلق سچائی سے نہیں۔ دولت پانے کا مطلب یہ نہیں کہ اُس نے سچائی کو بھی پالیا۔ اگر آدمی اپنے ذہن کو زندہ رکھے تو وہ دولت اور سچائی کے اِس فرق کو سمجھے گا اور احساسِ برتری میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو حق سے مستغنی سمجھنے کی غلطی نہیں کرے گا، اور پھر وہ سچائی کو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اِسی طرح ایک شخص جب ایک ماحول میں لمبی مدت تک رہتا ہے تو اُس کو اِس ماحول کے افکار سے متعصّبانہ تعلق ہو جاتا ہے، اور ماحول کی طرف سے اُس کو جو کچھ ملا ہے، اُس کو وہ حق سمجھنے لگتا ہے۔ یہ مزاج اِس کے لیے حق کو پہچاننے میں رُکا وٹ بن جاتا ہے۔ اب اگر آدمی اپنے ذہن کو زندہ رکھے تو وہ متعصّبہ فکر اور حقیقی فکر کے فرق کو سمجھے گا، اور جس آدمی کے اندر ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کی صلاحیت ہو، اِس کے سامنے جب حق آتا ہے تو وہ اس کو پہچان لیتا ہے اور پھر پورے دل و جان کے ساتھ وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔
سچائی کو پانے کے دو مرحلے ہیں ۔ پہلا مرحلہ تلاش کا ہے اور دوسرا مرحلہ دریافت کا۔ یہ دونوں مرحلے قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔ قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذیل میں فرمایا: ووجدک ضالاً فهدى (الضحیٰ: 7) یعنی خدا نے تم کو تلاشِ حق میں سرگرداں پایا، پھر تم کو اُس نے ہدایت دے دی۔ اِس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔
اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی پہلے حق کا متلاشی (seeker) بنتا ہے، پھر اُس کو حق کی دریافت ہوتی ہے۔ متلاشی بننے کا مطلب ذہنی استعداد ہے۔ جب کسی آدمی کے اندر ذہنی استعداد پیدا ہو جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اُس کے سامنے حق آئے تو وہ اس کو اپنی تلاش کا جواب سمجھے اور پوری آمادگی کے ساتھ اس کو فوراً مان لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues