Al-Risala · February 2008 · page 19

تقلید اور اجتہاد

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۱۹

تقلید اور اجتہاد

تقلید کی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت اسلامی تعلیم کے مطابق ہے، اور دوسری صورت اسلامی تعلیم کے خلاف۔ یہ دونوں صورتیں قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہیں۔ دونوں صورتوں کے متعلق، قرآن میں واضح رہنمائی ملتی ہے۔

تقلید کی غیر محمود صورت کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 23 میں ہے۔ سابق حاملینِ کتاب کے اندر اُن کے زوال کے زمانے میں جو صورتِ حال پیدا ہوئی، وہ تقلید کی یہی غیر محمود صورت تھی۔ اس حوالہ دیتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فتّقطعوا أمرهم بينهم زُبراً، كُلُّ حزب بما لديهم فرحون (المؤمنون: 53) یعنی انھوں نے اپنے دین کو اپنے درمیان ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، ہر گروہ اُسی پر نازاں ہے جو اُس کے پاس ہے۔ یہ تقلید کی وہ صورت ہے جب کہ تقلیدی مزاج کے تحت لوگ گروہوں میں بٹ جائیں، ہر گروہ اپنے کو برحق سمجھنے لگے۔ تقلید کی اِس قسم میں تقلید کو عقیدے کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں لوگوں کے اندر دو شديد بُرائی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایک، کٹّر پن اور دوسرے، تعصب۔

تقلید کی محمود صورت وہ ہے جو عملی ضرورت کے تحت پیدا ہوتی ہے۔ اس دوسری تقلید کا اصول قرآن کی اِس آیت سے اخذ ہوتا ہے: فاسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون (النّحل: 43) یعنی اپنے قِلّتِ علم کی تلافی کے لیے کسی معاصر عالم کو اپنا دینی رہنما، یا دینی مُشیر بنالینا۔ موجودہ زمانے میں تقلید کی جو صورت ہے، وہ بلاشبہ اسلامی روح کے خلاف ہے۔ آج کل یہ مان لیا گیا ہے کہ عبّاسی دور کے چار امام مجتہدِ مطلق تھے۔ انھوں نے جو فقہی اسکول بنائے، وہی فقہی اسکول اسلام میں آخری طور پر درست اسکول ہیں۔ حق انھیں چاروں کے درمیان ہے۔ اب نجات کی صرف یہ صورت ہے کہ ان میں سے کسی ایک کی پوری طرح تقلید کی جائے۔ اس تصور نے تقلید کو عقیدے کا درجہ دے دیا۔ اور جب کسی نئی چیز کو عقیدے کا درجہ دے دیا جائے تو اُس سے مزید بہت سی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page