تواضع ایک عظیم عبادت
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۸، صفحہ ۶
تواضع ایک عظیم عبادت
حدیث میں آیا ہے کہ: كلّ بن آدم خطّاؤن، وخير الخطّائين التّوابون (الترمذی، كتاب القيامة)۔ یعنی ہر انسان خطا کار ہے، اور سب سے اچھا خطا روہ ہے جو خطا کے بعد توبہ کرے ۔ اعترافِ خطا ، ایک عظیم عبادتی عمل ہے۔ یہ اعترافِ خطا، خدا کے مقابلے میں بھی ہوتا ہے اور انسان کے مقابلے میں بھی۔ جب خدا کے مقابلے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے تو اُس کو توبہ کہا جاتا ہے،اِ وریہی عمل جب انسان کے مقابلے میں کیا جائے تو اُس کا نام اعترافِ خطا ہے۔
اصحابِ رسول کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور اعتراف کرنے والے تھے، حتّیٰ کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جب کہ ایک صحابی نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کرو۔ حالاں کہ خالص قانونی اعتبار سے اِس کو دیکھا جائے تو وہاں صحابی نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ ایسا کیوں ہے ۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ یہ کہنا کہ میں غلطی پر تھا، در اصل اپنی تواضع کو اسٹیبلشڈ (established) کرنا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ، ہر انسان کے پاس ہر وقت خدا کے فرشتے موجود رہتے ہیں، جو اُس کے ہر قول و عمل کا ریکارڈ تیار کرتے رہتے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ ایک سچا مومن اِس بات کا حریص ہو کہ فرشتے اپنے ریکارڈ میں اِس کو ایک متواضع انسان کی حیثیت سے درج کریں، نہ کہ ایک سرکش انسان کی حیثیت سے۔
یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر مومن کے اندر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر موجود رہتا ہے۔ اس بنا پر مومن طبعاً اس کو پسند نہیں کرتا کہ وہ فرشتوں کی نظر میں ایک سرکش انسان دکھائی دے۔ کسی معاملے میں خواہ بظاہر اُس کی غلطی نہ ہو، تب بھی اُس کا متواضعانہ مزاج اِس کی زبان سے اِس طرح ظاہر ہوتا رہتا ہے کہ وہ بار بار یہ کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے سرکشی کے جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ اس کے برعکس غلطی کا اعتراف مومن کی متواضعانہ نفسیات کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ بے اعترافی اگر سرکش انسان کی غذا ہے تو اعترافِ اُس مومن کی غذا ہے جو اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے آگے جھکائے ہوئے ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2008 All issues