Al-Risala · February 2008 · page 25

ماڈل کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۵

ماڈل کون

قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، اسلام میں چار ماڈل ہیں__ رسول، اصحابِ رسول، خلفاء راشدین اور محدثین۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ: لقد کان لکم فی رسول اللہ اُسوة حسنة (الأحزاب: 21) اس سے معلوم ہوا کہ دعوتی عمل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اصحابِ رسول کو قرآن میں انصارُ الله (الصف: 14) کہا گیا ہے۔ ’انصارُ اللہ‘ میں مکہ کے اہلِ ایمان اور مدینہ کے اہلِ ایمان دونوں شامل ہیں۔ اس طرح اصحابِ رسول، نصرتِ خداوندی کا ماڈل ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ: علیکم بسنتی، وسنّۃ الخلفاء الراشدین المہدیّین (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126)۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکم رانی کے لیے خلفاء راشدین ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسی طرح حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: العلماء ورثۃ الأنبیاء (البخاری، كتاب العلم) اس حدیث کے مطابق، امت کے علما خدمتِ دین کا ماڈل ہیں۔ علما کے اس طبقے میں سب سے پہلے محدثین کا نام آتا ہے۔ محدثین کی حیثیت معیاری علما کی ہے۔ محدثین، امتِ مسلمہ کے اولین علما ہیں۔ اس اعتبار سے محدثین بعد کے تمام علما کے لیے واحد ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ علماے محدثین کا طریقہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنے آپ کو غیر سیاسی دائرے میں خدمتِ دین کے لیے وقف کر دیا۔ محدثین کا زمانہ عباسی سلطنت کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں حکم رانوں کے اندر وہ تمام بگاڑ آچکے تھے، جو بعد کے حکم رانوں میں نظر آتے ہیں۔ لیکن محدثین نے وقت کے سیاسی بگاڑ سے مکمل اعراض کرتے ہوئے اپنے آپ کو دینی خدمت کے میدان میں مشغول رکھا، انھوں نے سیاسی بگاڑ کے مسئلے سے مکمل اعراض کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ علماے حق کون ہیں، اور علماے سُوء کون۔ علماے حق وہ ہیں جو سختی سے محدثین کے ماڈل پر قائم رہیں، علماے سُوء وہ ہیں جو اس ماڈل سے انحراف (deviation) کریں اور سیاسی اصلاح کے نام پر حکم رانوں سے ٹکراؤ شروع کردیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page