عائشہ بنت ابی بکر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۴
اور پیغمبر اسلام کے بعد لمبی مدت تک لوگوں کو اسلام کا حکیمانہ پیغام پہنچاتی رہیں ۔ وہ ریکارڈنگ کے زمانے سے پہلے پیغمبر اسلام کا زندہ ریکارڈ بنی رہیں ۔ اُن کی اسلامی معرفت اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ اصحابِ رسول اُن سے علمِ دین سیکھنے کے لیے دور دور سے آتے تھے ۔
حضرت عائشہ کی زندگی تمام خواتین کے لیے ایک اعلیٰ نمونے کی حیثیت رکھتی ہے ۔ حضرت عائشہ نے انتہائی سادہ زندگی اختیار کی ۔ معاشی اور مادی معاملات میں انھوں نے آخری حد تک قناعت کا طریقہ اختیار کیا۔ اس طرح ان کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سے کامل فائدہ اٹھائیں۔ انھوں نے اپنی زندگی پیغمبر اسلام سے علمِ دین سیکھنے میں وقف کر دی ۔ اس بنا پر حضرت عائشہ کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد لمبی مدت تک تمام لوگوں کے لیے دین کی معلم بنی رہیں ۔ یہی امکان تمام خواتین کے لیے کھلا ہوا ہے ۔ اگر وہ سادہ زندگی اختیار کریں ، اپنے آپ کو دین کا علم سیکھنے میں وقف کر دیں تو اُنھیں بھی خدا کی نصرت حاصل ہوگی اور وہ لوگوں کے لیے اُسی طرح رحمت بن جائیں گی ، جس طرح حضرت عائشہ اپنے زمانے میں بنیں ۔
وں میں بائیں ، اس کی رونق پُرانے زمانے میں ہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues