Al-Risala · February 2008 · page 29

صحبت کا اثر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۲۹

صحبت کا اثر

شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی (وفات : 1291ء) کی کتاب ’’گُلستاں‘‘ بہت مشہور ہے۔ اس کتاب میں کہانی کے انداز میں اخلاقی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک کہانی یہ ہے کہ شیخ ایک باغ میں گئے۔ وہاں ایک مقام پر انھوں نے پایا کہ وہاں کی مٹی سے خوشبو آ رہی ہے۔ انھوں نے مٹی سے پوچھا کہ تمھارے اندر یہ خوشبو کہاں سے آ گئی۔ مٹی نے کہا کہ — دیکھو، یہاں گلاب کا درخت اُگا ہوا ہے۔ اس کی شاخوں پر خوشبودار پھول ہیں ۔ میں خوشبودار پھولوں کے پڑوس میں رہتی ہوں ۔ ان خوشبودار پھولوں نے مجھ کو بھی خوشبودار بنا دیا:

جمال ہم نشیں، در من اثر کرد وگرنہ، من ہُما خاکم کہ ہستم یہ کہانی تمثیل کے روپ میں صحبت کے اثر کو بتا رہی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندہ انسانوں کی صحبت آدمی کے اوپر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ اچھے لوگوں کی صحبت سے آدمی اچھا بن جاتا ہے، اور برے لوگوں کی صحبت میں آدمی بُرا بن جاتا ہے۔ اسی لیے فارسی شاعر نے کہا ہے : صحبت صالح ترا، صالح کند صحبت طالح ترا، طالح کند کسی بگڑے ہوئے آدمی کو درست کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو اچھے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کا موقع دیا جائے۔ کوئی بھی آدمی اگر لمبی مدت تک اچھے لوگوں میں بیٹھے تو ضرور وہ ان سے متاثر ہوگا ۔ یہ ایک فطری قانون ہے۔ اس قانون میں مشکل ہی سے کوئی استثنا ملے گا۔ تاہم، صحبت کو مفید بنانے کی ایک لازمی شرط ہے، اور وہ صبر ہے۔ جب بھی ایسا ہو کہ اچھے لوگوں کی صحبت میں ایک بُرا آدمی آجائے تو اچھے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس کے معاملے میں صبر و تحمل سے کام لیں۔ وہ پہلے ہی دن اس کے معاملے میں تبدیلی کی امید نہ رکھیں ۔ وہ تبدیلی اور اصلاح کے معاملے میں انتظار کریں۔ وہ اس حقیقت کو جانیں کہ یہ معاملہ اچانک تغیر کا نہیں ہے، بلکہ بتدریج تغیر کا ہے۔ ہر آدمی کی اصلاح ممکن ہے، بشرطیکہ مصلح اس کا انتظار کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page