Al-Risala · February 2008 · page 30

ایک مشکل ، دو آسانی

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۰

ایک مشکل ، دو آسانی

قرآن کی سورہ نمبر 94 میں فطرت کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: فإن مع العُسْرِ يُسراً، إن مع العسر يُسراً (الإِنشراح: 6-5) یعنی بے شک، مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔ بے شک، مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: لن يغلب عُسْرٌ يُسرين، لن يغلب عُسْرِ يُسرين (ابن کثیر) یعنی ایک مشکل دو آسانی پر غالب نہیں آسکتی، ایک مشکل دو آسانی پر غالب نہیں آسکتی۔ اس تشریح کی مزید وضاحت عبد اللہ بن عباس کے ایک قول میں ملتی ہے۔ انھوں نے کہا: يقول الله تعالى: خلقتُ عُسراً واحداً، وخلقْتُ يُسرين۔ ولن يغلب عُسْرٌ يُسرين (القرطبی) یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے مشکل ایک پیدا کی، اور آسانی دو پیدا کی۔ اور دو آسانی پر ایک مشکل غالب نہیں آسکتی۔ یہ کوئی پُراسرار بات نہیں، یہ ایک معلوم واقعہ ہے اور فطرتِ انسانی کا مطالعہ کرکے اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔ نفسیات کے تحت انسان کا جو مطالعہ کیا گیا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان جب کسی مشکل سے دوچار ہو، اور وہ بے حوصلہ نہ ہو جائے تو اس کے اندر ڈبل طاقت آجاتی ہے۔ ایک طاقت وہ جو نارمل صورت میں پہلے سے موجود تھی، اور دوسری طاقت وہ جو اضافہ شدہ محرک (incentive) کی وجہ سے اُس کے اندر آئی۔ اس طرح مشکل پیش آنے کی صورت میںآدمی اضافہ شدہ محرک کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ عزم اور زیادہ ہمت کے ساتھ مشکل کا سامنا کر سکے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ فطرتِ انسانی کے اس راز کو جانے، مشکل پیش آنے کی صورت میں وہ اپنے آپ کو معتدل حالت میں باقی رکھے۔ ایسا کرکے وہ فطرت انسانی کو یہ موقع دے گا وہ اس کے اندر مشکلات سے مقابلہ کرنے کی طاقت کو ڈبل کر سکے اور اس طرح اس کی کامیابی کو یقینی بنا دے۔ مشکل، فطرت کے نظام کا ایک حصہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی فطرت کا ایک حصہ ہے کہ جب آدمی پر کوئی مشکل پڑے تو وہ ڈبل طاقت کے ساتھ اس کا سامنا کرنے کے قابل ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page