Al-Risala · February 2008 · page 35

جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۵

موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ الم ناک پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے (tragedy) کے سوا اور کچھ نہیں۔ بڑے بڑے ادیبوں نے ہر زبان میں لاکھوں کی تعداد میں ناول لکھے ہیں۔ یہ ناول گویا انسانی جذبات کی ترجمانی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں کوئی طربیہ (comedy) ناول کبھی زیادہ مقبول نہ ہوسکا۔ دنیا میں جتنے بھی مقبول ناول ہیں، وہ سب کے سب المیہ (tragedy) ہیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان اس احساس میں جی رہا ہے کہ وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا، وہ اس کو حاصل نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ المیہ ناول انسان کے دل کو چھوتے ہیں، طربیہ ناول انسان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتے۔

یہ انسانی زندگی کا بڑا عجیب پہلو ہے کہ ہر انسان کی عمر کا پہلا نصف حصہ خوشی کی تلاش میں گزرتا ہے، اور بقیہ نصف حصہ اس احساس میں کہ بظاہر خوشیوں کے سامان حاصل کرنے کے باوجود میں اپنے لیے خوشیوں کی مطلوب دنیا نہ بنا سکا۔

تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کی موجودہ زندگی اس لیے نہیں ہے کہ وہ یہاں اپنے لیے خوشیوں کی ایک دنیا بنائے۔ موجودہ زندگی صرف اس لیے ہے کہ آدمی حسنِ عمل سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں خوشیوں کی مطلوب دنیا پا سکے۔ موت سے پہلے کا مرحلۂ حیات، اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات حسب استحقاق جنت میں داخلے کا مرحلہ، یعنی خوشیوں کی اُس دنیا میں داخلے کا مرحلہ، جس کو ہر آدمی کی روح تلاش کر رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page