قانونِ فطرت کو جانیے
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۶
قانونِ فطرت کو جانیے
عمران احمد اصلاحی (پیدائش 1974) اعظم گڑھ میں لال گنج کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عرصے سے وہ دہلی میں رہ رہے ہیں۔ 13 اگست 2007 کی ملاقات میں، میں نے اُن کے گھر کے حالات دریافت کیے۔ معلوم ہوا کہ اُن کے یہاں تین سال کا ایک بچہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ بچے کی تعلیم کے لیے آپ نے کیا سوچا ہے۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ وہ کہیں گے کہ بچے کو دہلی لانا پڑے گا، کیوں کہ گاؤں میں تعلیم کا کوئی اچھا انتظام نہیں۔
مگر میری توقع کے خلاف، انھوں نے کہا کہ ہمارے علاقے میں بہت سے اچھے اسکول کھل گئے ہیں۔ ان میں انگریزی کی معیاری تعلیم ہوتی ہے۔ انگریزی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے اُن لوگوں نے ساؤتھ انڈیا سے ٹیچروں کو بلایا ہے۔ اسی کے ساتھ وہاں اسکول بس کا بھی اچھا انتظام ہے۔ اس کے تحت، پک اینڈ ڈراپ سروس (pick & drop service) قائم ہے۔ اس لیے بچے کی تعلیم کے سلسلے میں ان شاء اللہ، کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
میرے لیے یہ ایک نئی خبر تھی، کیوں کہ پہلے وہاں اس قسم کی تعلیم کا انتظام موجود نہ تھا۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ اس علاقے کے بہت سے مسلمان دُبئی وغیرہ کمانے کے لیے گیے۔ یہ لوگ تعلیم یافتہ نہ تھے، اس لیے انھیں زیادہ تر لِیبر کلاس (labour class) کا کام ملا۔ اسی دوران انھوں نے دیکھا کہ دوسرے مقامات کے لوگ جو جدید تعلیم لے کر وہاں آئے ہیں، اُن کو وہاں اچھے اچھے کام مل رہے ہیں۔
اس تقابل اور اس انٹریکشن (interaction) کے ذریعے اُن کے ذہن میں ایک بھونچال آیا۔ انھوں نے سوچا کہ ہم تو تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے لِیبر کلاس کا کام کر رہے ہیں اور اسی حال میں مریں گے، مگر اب ہم کو یہ کوشش کرنا ہے کہ ہمارے بچے اور ہماری اگلی نسلیں تعلیم میں آگے بڑھیں، تاکہ وہ ترقی کی دوڑ میں دوسروں سے پیچھے نہ رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues