Al-Risala · February 2008 · page 37

قانونِ فطرت کو جانیے

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۷

اس سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان لوگوں نے اپنی کمائی کو تعلیم کے میدان میں خرچ کرنے کا فیصلہ ک۔ انھوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت، اس علاقے میں بہت سے اسکول کھول دیے باہر کے تجربے سے اُن کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس زمانے میں سب سے زیادہ اہمیت معیار کی ہے، اس لیے آج صرف تعلیم کی ضرورت نہیں ہے بلکہ معیاری تعلیم (standard education) کی ضرورت ہے۔ اس انقلابی سوچ کا یہ نتیجہ ہوا کہ اس ایریا میں بہت سے اعلیٰ معیار کے اسکول کھل گئے ۔ اب یہاں گاؤں کے بچے بڑی تعداد میں تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہیں۔

پچھلے ساٹھ برس کے دوران تمام مسلم لیڈر، بغیر کسی استثنا کے، صرف ایک بات کہتے رہے ہیں، وہ یہ کہ انڈیا میں مسلمانوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پیچھے دھکیلا جار ہا ہے۔ انڈیا میں یہ سازش کی جارہی ہے کہ یہاں مسلمانوں کو پُس ماندہ طبقہ بن کر رہنے پر مجبور کر دیا جائے ۔ مگر اسی دوران انڈیا کے مسلمان ترقی کی دوڑ میں شامل ہو گئے، یہاں تک کہ آج انڈیا کے مسلمان تعمیر وترقی کے معاملے میں پاکستان کے مسلمانوں سے بھی بہت آگے جا چکے ہیں۔

اوپر جس واقعے کا ذکر ہوا، وہ صرف اعظم گڑھ میں پیش نہیں آیا بلکہ وہ سارے ملک میں پیش آرہا ہے۔ آج ملک کے ہر حصے میں مسلمان تیزی سے ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ فطرت کے قانون کے تحت ہوا ہے، وہ اس طرح کہ مسلمانوں کو دوسرے طبقوں سے انٹریکشن پیش آیا۔ انھوں نے دوسری قوموں کی ترقی کو دیکھا ۔ وہ چیلنج اور مسابقت کے ماحول سے گزرے ۔ ہر ایک نے چاہا کہ میری اولاد ترقی میں دوسروں سے پیچھے نہ رہے۔ اس طرح مسلمانوں میں فطرت کا ایک عمل (process) جاری ہوا۔ یہی فطری عمل مذکورہ قسم کے واقعات کی صورت میں اپنا نتیجہ دکھا رہا ہے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈ راس عظیم واقعے سے بے خبر رہ گئے ۔ اس کا سبب موجودہ زمانے کا میڈیا ہے۔ مسلمانوں کے یہ نام نہاد لیڈراخباروں کو پڑھ کر اپنی رائے بناتے ہیں ۔ اُن کی معلومات کا ذریعہ عام طور پر صرف اخبار کی رپورٹیں ہیں۔ اخبار ، یا جدید میڈیا یا اپنے مخصوص مفادات کے تحت صرف منفی خبروں کو منتخب کرتا ہے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page