پیچھے کی سیٹ
الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۳۹
پیچھے کی سیٹ
انگریزی زبان کی ایک مشہور مثل ہے کہ ٹاپ کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے: There is always room at the top یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ درست اور اہم بات وہ ہے جو اس قول کے برعکس ہے، اور وہ یہ کہ پیچھے کی سیٹ پر ہمیشہ جگہ خالی رہتی ہے: There is always room at the back seat. بیک سیٹ پر جانا، کسی آدمی کے لیے بظاہر شکست خوردگی اور پسپائی کی بات ہوتی ہے۔ لیکن بیک سیٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے آدمی کو ہر حال میں ایک نیا آغاز مل جاتا ہے، وہ کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ نئی صورت میں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو جاتا ہے۔ مسیحیت میں بعد کے زمانے میں پوپ کا مذہبی عہدہ شروع ہوا۔ اس کی اتنی ترقی ہوئی کہ قرونِ وسطیٰ کے زمانے میں پوپ عملی طور پر پورے یورپ کا پولیٹیکل ہیڈ بن گیا تھا۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد چرچ کے خلاف طاقت ور تحریک اُٹھی، یہاں تک کہ یہ ناممکن ہو گیا کہ پوپ کی سیاسی طاقت بدستور باقی رہے۔ اُس وقت مسیحی چرچ اور سیاسی لیڈروں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کو لیٹرین ٹریٹی (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 1929 میں ہوا، جب کہ اٹلی میں مسولینی (وفات: 1945) حکومت کر رہا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق، پوپ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے پر راضی ہو گیا۔ چناں چہ روم کے اندر ویٹکن سٹی (Vatican City) کے نام سے ایک خود مختار اسٹیٹ وجود میں آئی، جس کا رقبہ تقریباً ایک سو دس ایکڑ تھا۔
اس طرح ویٹکن کے محدود رقبے پر راضی ہونے کا یہ فائدہ مسیحی چرچ کو ملا کہ پوپ کا پرعظمت تاریخی ٹائٹل محفوظ رہا۔ پوپ، دنیا کی سب سے چھوٹی اسٹیٹ کا ہیڈ ہے۔ لیکن عملاً اس کو پوری دنیا کے اندر ایک عظیم مقام ملا ہوا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ پوری دنیا میں مسیحی سرگرمیوں کو منظم کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues