Al-Risala · February 2008 · page 40

پیچھے کی سیٹ

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۰

اس کے برعکس اب دوسری مثال لیجیے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں میں خلافت کا سیاسی ادارہ قائم ہوا۔ وہ ایک ہزار سال تک شوکتِ اسلام کی علامت بنار ہا۔ آخری مرحلے میں ترکی اس خلافت کا صدر مقام تھا۔ یہاں خلیفہ المسلمین رہتا تھا، جو عملاً ساری مسلم دنیا کے لیے انٹرنیشنل ہیڈ کی حیثیت رکھتا تھا۔

پہلی عالمی جنگ میں ترک خلافت، جرمنی کے اتحاد میں شریک ہوئی۔ اس جنگ میں ترک خلافت کو زبردست شکست ہوئی۔ اسی زمانے میں نیشنل ازم کا عروج ہوا اور بین الاقوامی خلافت کا بقا عملاً نا ممکن ہو گیا۔ اس طرح یہ مسلم خلافت عملاً ٹوٹ پھوٹ گئی، یہاں تک کہ کمال اتا ترک نے 1924 میں اس ختم شدہ خلافت کے رسمی خاتمے کا اعلان کر دیا۔

اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے بھی یہ موقع تھا کہ وہ بیک سیٹ پر چلے جائیں۔ اور پوپ کی طرح خلیفہ المسلمین کے ٹائٹل کو محفوظ رکھیں جو ہزار سالہ تاریخی روایات کے نتیجے میں ایک پُر اسرار عظمت حاصل کر چکا تھا۔ اُس زمانے کے مسلم رہ نما اگر ایک محدود رقبۂ زمین میں خلیفہ المسلمین کا مرکز قائم کرنے پر راضی ہوجاتے تو آج مسلمانوں کے پاس بھی ایک اسلامی ویٹیکن (Islamic Vatican) موجود ہوتا۔

مگر اُس زمانے کے مسلم رہ نما، مثلاً سید جمال الدین افغانی، محمد علی جو ہر اور ابو الکلام آزاد، وغیرہ نے انتہائی نادانی کے ساتھ غو غائی سیاست بر پا کر دی ۔ وہ بیک سیٹ پر جانے کے بجائے، خلافت کو دوبارہ اُس کی قدیم حیثیت کے ساتھ باقی رکھنا چاہتے تھے، مگر عملاً اس سیاست کی کامیابی کا کوئی امکان نہ تھا۔ چناں چہ ایک ذلت آمیز نا کامی کے سوا، مسلم رہ نماؤں کو کچھ اور نہیں ملا۔ ہزار سال کی تاریخی روایات نے خلیفہ المسلمین کا پر شوکت ٹائٹل بنایا تھا، پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے کی صورت میں یہ ٹائٹل بلاشبہ اسی طرح باقی رکھا جا سکتا تھا، جس طرح پوپ کا ٹائٹل باقی ہے۔ مگر مسلم رہ نماؤں کی نا قابل فہم نادانی کے نتیجے میں یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page