Al-Risala · February 2008 · page 46

حضرت مولا نا وحید الدین خاں صاحب

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۶

الرسالہ باقاعدگی سے مل رہا ہے جس کے لیے بے حد ممنون ہوں۔ نومبر 2007 کے تازہ شمارے میں "اسماء حسنیٰ اور اسم اعظم" کے موضوع پر آپ کا بصیرت افروز مضمون نہ صرف قابل تعریف اور فکر انگیز ہے، بلکہ وہ اسم اعظم کے تعلق سے ہمیں ایک نئے زاویہ فکر سے روشناس بھی کراتا ہے۔ آپ نے ٹھوس دلائل کے ذریعے سے اسم اعظم کی وضاحت جس طرح فرمائی ہے، اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر پھیلے ہوئے شکوک اور مفروضات کا ازالہ ہو جانا چاہیے۔ بہر حال آپ نے یہ بڑا نیک کام انجام دیا ہے۔ مبارک باد قبول فرمائی (سعید رحمانی، ایڈیٹر اخبار اڑیسہ، کٹک، 22 اکتوبر، 2007)۔ 14- ایک خط: حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ خدا آپ پر اور آپ کے تمام اہل خانہ پر کرم کا معاملہ فرمائے، آمین۔ نومبر 2007 کا الرسالہ زیر مطالعہ ہے۔ پریشان ہوں کہ بات کیا اور کہاں سے شروع کروں کیوں کہ مجھے اپنی کم علمی کا پورا احساس ہے۔ ایک سند یافتہ عالم کے سامنے بات پیش کرنا اور بات ہے لیکن جب سامنے معرفت کی سطح پر زندگی گزارنے والا اور اللہ کی طرف سے خیر کثیر (البقرہ: 269) سے نوازا ہوا شخص ہو، تو قلم حرکت کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ یوں آپ کی بیش تر تحریروں نے اکثر مجھ کو رلایا ہے۔ تب بھی میں بہت رویا تھا جب آپ کی کتاب ’’الاسلام‘‘ کے عنوان ’’عبادت‘‘ (صفحہ 7) سے گزرا تھا۔ لیکن آج تو حد ہوگئی، کس جملے اور کون سے صفحے کی بات کروں۔ بہ شک دنیا کے تمام الفاظ مل کر بھی اسماء حسنیٰ کی تعریف بیان نہیں کر سکتے، لیکن اس شمارے میں جیسے خدا نے لفظوں کو گویائی عطا کر دی ہے۔ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس شمارے نے بہت سی روحوں کو رلايا ہوگا اور اسم اعظم کو شعوری سطح پر پانے کا احساس زندہ کیا ہوگا۔ سچ کہوں تو اس شمارے کو ’’اسم اعظم اور خیر کثیر نمبر‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ ایک خیر کثیر کے طالب کے لیے اس خاص کتاب کا روزانہ مطالعہ معرفت کی سطح پر زندگی گزارنے کے لئے بے حد معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اس شمارے کی لاتعداد کاپیاں چھپوا کر ایک ایک بندے تک پہنچادوں (محمد وسیم اختر، بہادر گنج، بہار، 23 اکتوبر 2007)۔

15- 28 اکتوبر 2007کو بیروہ (کشمیر) میں حلقہ الرسالہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوئے ۔ اس موقع پر جناب غلام نبی کشافی نے ’’اسوہ حسنہ اور مسیحی ماڈل‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مقالہ پیش کیا۔ اس میں قرآن اور حدیث کے واضح دلائل کے ذریعے اس سلسلے میں اٹھنے والے شبہات کا مدلل جواب دیا گیا۔ اس میں بتایا گیا کہ ’دین‘ اور ’منہاج‘ کے معاملے میں الرسالہ کا نقطہ نظر وہی ہے، جو تمام علماء اسلام کا نقطہ نظر ہے۔ اس سلسلے میں محدثین اور علماء سلف کی تحریروں کے کئی حوالے پیش کیے گئے۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ سیرت رسول کے موضوع پر مطبوعات الرسالہ کے تحت، ایک درجن سے زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ایسی حالت میں علمی طریقہ صرف یہ ہوگا کہ ان مطبوعہ کتابوں کو سامنے رکھ کر اس معاملے میں کوئی رائے قائم کی جائے، نہ کہ صرف ایک بات کو لے کر اُس کے خلاف سطحی قسم کی بے معنی دھوم مچائی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page