Al-Risala · February 2008 · page 45

حضرت مولا نا وحید الدین خاں صاحب

الرسالہ، فروری ۲۰۰۸، صفحہ ۴۵

بھی آپ کا ایک طویل انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس کے آخر میں آپ نے اُس رسالے کے متعلق، اپنے تاثرات کا اس طرح تذکرہ فرمایا ہے: ’’ماہ نامہ جام نور میرے پاس آتا ہے، میں اس کو ایک اچھا رسالہ سمجھتا ہوں، میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ میری دعا ہے کہ ماہ نامہ جام نور ہمیشہ ترقی کرتا رہے اور مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع کا باعث بنے (ماہ نامہ جام نور، اپریل 2007ء، ص: 96)۔ لیکن اِسی رسالے کے ایک اور شمارے میں ایک مستقل کالم (اظہارِ خیال) کے تحت، ایک قاری کا ایک جگہ آپ کے اور رسالے کے بارے میں تعصب و تنگ نظری سے بھر پور یہ ریمارک اِس طرح شائع ہوا ہے: ’’میں آپ کو شہر گل برگہ کی بات بتاؤں کہ ایک اسٹال پر’’الرسالہ‘‘ کثیر تعداد میں پہنچتا ہے اور صف بستہ منتظرین اس کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا لے جاتے ہیں، حالاں کہ دس کی جگہ یہاں قارئین گیارہ روپے دیتے ہیں، یہاں کی اکثر لائبریریوں میں جہاں کوئی رسالہ پہنچتا ہے’’الرسالہ‘‘ ضرور پہنچتا ہے، جب کہ اہل سنت کے کسی بھی رسالے سے لائبریریاں خالی ہیں۔ لائبریریوں میں مستقل آکر پڑھنے والوں کا حال یہ ہے کہ وہ دیگر رسائل کو چھوڑ کر‘‘ الرسالہ’’ ہی ایک دوسرے سے لے کر پڑھنے کے منتظر رہتے ہیں... میں پر اُمید ہو کر یہ کہوں گا کہ جولائی کے الرسالہ پر بھی تبصرہ لکھیے جو اسلامی تعلیمات کے مخالف سوچ اور فکر سے پر ہے‘‘ (جام نور، ستمبر 2007ء، ص: 28) یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ایک طرف آپ نے اپنے اوپر دیے گئے اقتباس میں جام نور کی تعریف کی اور مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع کا باعث بننے کی دعا فرمائی ہے مگر دوسری طرف اِس اقتباس میں خود آپ کے خلاف اور الرسالہ کے خلاف بے بنیاد طور پر رائے زنی کی گئی ہے۔ تا ہم اس اقتباس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جو مسلکی تعصب اور فرقہ بندی کے چنگل سے آزاد ہیں اور دل و دماغ کے اعتبار سے بیدار بھی ہیں، الرسالہ ایک بار پڑھنے سے وہ اُنھیں فطرت کی آواز اور اسلام کی روح معلوم ہوتا ہے اور وہ اس کی طرف پلٹ جاتے ہیں اور اس کی خریداری کے لیے صف بستہ کھڑے ہو کر انتظار کرتے ہیں، یہ خوش آئند بات نہیں تو کیا ہے۔ چوں کہ الرسالہ، اسلام کی دریافت ہے اور اس میں اسلام کی دعوت کو بے لوث اور حکیمانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح کی دعوت جب تحریک اور مشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس وقت اس دعوت حق کو روکنے کی طاقت کسی میں نہیں ہوتی ہے اور جو بھی دعوت الی اللہ کے راستے میں روڑے اٹکاتا اور رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کا وجود اور اس کا نام ونشان مٹا دیتا ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (الصف: 8) اگر کوئی چاہے کہ سورج کو اپنی پھونکوں سے بجھادے تو یہ اس کی سراسر حماقت ہوگی۔ جس طرح سورج روشن رہے گا اور روشنی دیتا رہے گا، اُسی طرح حق کی روشنی اپنا راستہ ڈھونڈ نکالے گی، خواہ اس کے مخالفین اسے بجھانے کے لیے کتنی بھی تدبیر اور ہتھکنڈے آزمائیں، مگر اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے اس کی تکمیل ہوکر رہے گی۔ حق کی یہ روشنی دنیا کے کونے کونے اور گوشے گوشے کو روشن کر دے گی۔ تاہم یہ نصیحت صرف اس آدمی کو فائدہ پہنچانے والی ہے حق کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہو اور حق کی تڑپ رکھتا ہو، ورنہ اندھے مخالفین کے لیے ساری تفصیلیں اور ساری شرحیں مبہم ہیں۔ (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر) 13۔ ایک خط: قابل احترام مولانا وحید الدین خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا موقر جریدہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2008 All issues

Printed page