Al-Risala · March 2009 · page 4

حفاظتِ خداوندی

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۴

حفاظتِ خداوندی

فتح مکہ (8 ہجری) سے پہلے مدینہ کے حالات اچھے نہ تھے۔ چناں چہ رات کے وقت صحابہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کرتے تھے۔ ایک رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قبہ سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا: انصرفوا أيها الناس، فقد عصمني الله (الترمذي، كتاب التفسیر) یعنی اے لوگو، واپس جاؤ۔ اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات قرآن کی ایک آیت کی بنیاد پر فرمائی تھی جو غالباً اُسی رات کو اتری تھی۔ وہ آیت یہ ہے: یا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك، وإن لم تفعل فما بلغت رسالته، والله يعصمك من الناس (المائدة: 67) یعنی اے پیغمبر، جو کچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اُس کو پہنچاؤ۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا۔

قرآن کی اِس آیت کے مطابق 'عصمت من الناس' کا راز تبلیغ ما انزل اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ یہ وعدہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے شخصی طور پر نہ تھا، یہ آپ کی امت کے ہر اُس فرد یا اُس گروہ کے بارے میں ہے جو خالص پیغمبرانہ نمونے کے مطابق، دعوت اور تبلیغ کا کام کرے ۔ سچے داعیوں کے لیے یہ ایک ابدی وعدہ ہے، وہ کسی خاص زمانے تک محدود نہیں۔ دعوتِ حق کے کام کو قرآن میں اللہ تعالیٰ کی نصرت بتایا گیا ہے (الصف: 14) اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو یہ کام کرے گا، اُس کو ضرور خدا کی مدد حاصل ہوگی (محمد: 7)۔ یہ امت محمدی کے لیے ابدی طور پر ایک رہ نما ہدایت ہے۔ افرادِ امت کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی، مسائل دنیا کی بنیاد پر نہ کریں، بلکہ دعوت الی اللہ کی بنیاد پر کریں۔ دعوت کی ذمے داری ادا کرنے کے بعد ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ اُن کے دنیوی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ اِس کے برعکس، اگر انھوں نے دنیوی مسائل کو اپنے عمل کا نشانہ بنایا، تو دونوں میں سے کوئی بھی چیز اُن کو ملنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page