Al-Risala · March 2009 · page 5

آدابِ کلام

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۵

آدابِ کلام

مکی دور میں جب قرآن اترنا شروع ہوا تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ اُس زمانے میں ایسا ہوا کہ فرشتہ جبریل، قرآن کا کوئی حصہ لے کر آئے اور انھوں نے اس کو آپ کے سامنے پڑھا۔ اُس وقت آپ نے یہ کیا کہ آپ سنے ہوئے الفاظ کو درمیان میں دہرانے لگے، تاکہ آپ اُس کو بھول نہ جائیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 75 میں اس پر یہ ممانعت اتری: لا تحرك به لسانك لتعجل به - إن علينا جمعه وقرآنه، فإذا قرأناه فاتبع قرآنه (القیامة: 18-16) یعنی تم اس کے پڑھنے پر اپنی زبان حرکت میں نہ لاؤ، تا کہ تم اُس کو جلدی سیکھ لو۔ ہمارے اوپر ہے، اس کو جمع کرنا اور اس کو سنانا۔ پس جب ہم اس کو سنائیں، تو تم اس کے سنانے کی پیروی کرو۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو جبریل اس بات کو الگ سے پیغمبر اسلام کو بتا دیتے ۔ قرآن میں یہ بات اس لیے شامل کی گئی، تا کہ اس کے ذریعے دوسرے لوگوں کو آدابِ کلام کی تعلیم دی جا سکے ۔ اس اعتبار سے، قرآن کی اس آیت کا تعلق عمومی طور پر آداب کلام سے ہے، نہ کہ صرف پیغمبر اسلام کی ذات سے ۔ اس آیت سے کلام کا صحیح طریقہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ جب کوئی شخص ایک بات کہے، تو دوسرا آدمی پوری طرح خاموش ہو کر اُس کی بات کو سنے ۔ سننے والے کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ وہ بیچ میں بولنے لگے ۔

اکثر لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ گفتگو کے دوران بیچ میں بار بار بولتے ہیں۔ یہ طریقہ آدابِ کلام کے خلاف ہے۔ نیز اُس کا یہ نقصان ہے کہ سننے والا، کہنے والے کی بات کو پوری طرح نہ پکڑے ۔ اس طرح گفتگو کا اصل فائدہ حاصل نہ ہو۔ باہمی گفتگو کا مقصد افہام و تفہیم، یا ڈائیلاگ اور لرننگ (learning) ہوتا ہے۔ گفتگو کے دوران بولنے سے یہ مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اس کا فائدہ نہ سننے والے کو ملتا ہے اور نہ کہنے والے کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page