Al-Risala · March 2009 · page 9

مسرت اور قناعت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۹

مسافر اپنے آپ کو سفر کی حالت میں سمجھتا ہے، اس لیے وہ سفر کے وقت، یا سواری میں بیٹھ کر اطمینان کے ساتھ اپنا سفر طے کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کو پیشگی طور پر یہ معلوم رہتا ہے کہ سفر میں اس کو گھر جیسا آرام نہیں مل سکتا۔ مسافر آدمی جب ایک سواری میں بیٹھا ہو، تو وہ یہ امید نہیں رکھتا کہ اس کو گھر والی سہولتیں حاصل ہو جائیں گی۔ یہی سوچ آدمی کو سفر میں مطمئن رکھتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ سواری کے اندر گھر والی سہولتوں کی امید رکھے، تو وہ پورے سفر میں پریشانیوں سے دوچار رہے گا۔ اسی حقیقت پسندانہ سوچ کا نام قناعت ہے، اور قناعت کی سوچ ہی اس دنیا میں اطمینان کے حصول کا واحد ذریعہ ہے۔ موجودہ زمانے میں ایک مسئلہ بہت زیادہ عام ہے۔ اس مسئلے کو اسٹرییں (stress) یا ٹینشن (tension) کہا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے ادارے کھلے ہوئے ہیں جو ڈی اسٹریلنگ (de-stressing) کے نام پر بڑے بڑے بزنس چلا رہے ہیں، مگر ڈی اسٹریلنگ کا یہ پورا کام صرف مسئلہ (problem) کے نام پر تجارت کرنا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں مسئلے کو حل کرنا۔

ڈی اسٹریلنگ کا واحد ممکن ذریعہ قناعت (content) ہے۔ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صورتِ موجودہ پر دل سے راضی ہو جائے۔ اور صورتِ موجودہ پر دل سے راضی ہو جانا ہی آدمی کو اس دنیا میں اطمینان اور سکون کی زندگی عطا کر سکتا ہے۔ اس کے سوا، اس دنیا میں اطمینان اور سکون کے حاصل کرنے کا اور کوئی دوسرا ذریعہ نہیں۔

دعوتِ الی اللہ کا کام کرنے والے حضرات اس مقصد کے لیے اردو، ہندی اور انگریزی پمفلٹس مفت حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ حسب ذیل پتہ پر ایک درخواست لکھ کر روانہ کی جائے۔ پتہ مع پن کوڈ انگریزی میں مطلوب ہوگا: CPS International 1, Nizamuddin West Market, New Delhi - 110 013, Mob. 91-9810558483, Fax: 91-11-24357333, email: info@cpsglobal.org

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page