مسرت اور قناعت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۸
مسرت اور قناعت
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صرف خدا کی یاد سے انسان کو اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے (الرعد: 28)۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة (صحیح البخاری، کتاب الرّقاق) یعنی پُر مسرت زندگی صرف آخرت میں حاصل ہوسکتی ہے۔ قرآن اور حدیث کے ان دونوں حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسرت (happiness) اور اطمینان، دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں، موجودہ دنیا میں کسی کو اطمینانِ قلب تو حاصل ہوسکتا ہے، لیکن مادی معنوں میں پر مسرت زندگی کا حصول یہاں ممکن نہیں۔ مسرت کا تعلق، مادی راحت کی چیزوں سے ہے۔ اس کے مقابلے میں، اطمینان ایک ذہنی حالت کا نام ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں کسی کو وہ تمام مادی سازوسامان نہیں مل سکتا جس کو پر مسرت زندگی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے، البتہ ذہنی اعتبار سے اُس داخلی کیفیت کا حصول ممکن ہے جس کو اطمینان کہا گیا ہے۔ مادی سازوسامان کا بقدرِ شوق ملنا، اِس لیے ممکن نہیں کہ موجودہ دنیا اِس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئی ہے۔ موجودہ دنیا امتحان اور آزمائش کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں وہی سامان اکھٹا کیے گئے ہیں جو امتحان کی مصلحت کے اعتبار سے ضروری ہیں۔ اِس لیے موجودہ دنیا میں پر مسرت زندگی کی تعمیر ایک ایسا کام ہے جس کی گنجائش خالق کے تخلیقی پلان میں نہیں، اور جو چیز خالق کے تخلیقی پلان میں نہ ہو، اُس کا حصول موجودہ دنیا میں کبھی ممکن نہیں ہوسکتا۔
اطمینانِ قلب کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ اطمینانِ قلب کے حصول کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ آدمی ملی ہوئی صورتِ حال پر راضی ہو جائے ۔ اِسی کا نام قناعت (content) ہے۔ اگر آدمی کے اندر قناعت کا مزاج پیدا ہو جائے، تو کسی بھی حال میں، وہ کامل اعتدال کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ اِس لیے حدیث میں مومن کی مثال مسافر سے دی گئی ہے (كُن في الدنيا كأنك غريب، أو عابر سبيل - صحيح البخاری، کتاب الرقاق)۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues