Al-Risala · March 2009 · page 12

علماءکم، خطباء زیادہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲

علماءکم، خطباء زیادہ

مشہور صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: إنكم في زمان كثير علماءه، قلیل خطباؤه، وإن بعدكم زمانا كثير خطباؤه، والعلماء فيه قليل (رواه البخاري في الأدب المفرد ) یعنی آج تم ایک ایسے زمانے میں ہو، جب کہ امت میں علماء بہت ہیں اور خطبا کم ہیں۔ تمھارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ امت میں خطباء زیادہ ہوں گے اور علماء کم ہوں گے۔ اس قول میں علماء سے مراد حقیقی اہلِ علم ہیں، اور خطباء سے مراد عوامی انداز میں بولنے والے مقررین ہیں۔ بعد کے زمانے سے مراد اسٹیج اور میڈیا کا زمانہ ہے۔

یہ بعد کا زمانہ آج پوری طرح ہمارے سامنے آ چکا ہے۔ قدیم زمانے میں، جب کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا اور نہ جدید قسم کا اسٹیج بنا تھا، اُس وقت تقریر و خطابت میں کوئی کشش موجود نہ تھی۔ اُس وقت کے حالات میں لوگ زیادہ تر علمی مطالعہ اور علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ اس بنا پر قدیم زمانے میں یہ ممکن تھا کہ بڑے بڑے اہل علم پیدا ہوں۔ موجودہ زمانے میں، اسٹیج اور میڈیا کے ظہور نے صورتِ حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی پر جوش تقریریں کر کے اسٹیج پر نمایاں ہو۔ اخباروں میں اس کی تصویریں چھپیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں اس کا شان دار مظاہرہ ہو، وغیرہ۔

اس طرح کی چیزوں نے آج کے ذہن لوگوں کو علم سے بے رغبت کر دیا ہے۔ اسٹیج اور میڈیا میں نمایاں ہونا، اُن کے لیے زیادہ پرکشش بن گیا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو صحابی رسول نے پیشین گوئی کے انداز میں بیان کیا۔

علم والا آدمی سوچ کر بولتا ہے اور خطابت والا آدمی سوچے سمجھے بغیر اپنی تقریر شروع کر دیتا ہے۔ اس فرق کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ علم والا آدمی مصلح کا درجہ پاتا ہے، اور خطابت والا آدمی مفسد کا درجہ۔ مستقبل کی تعمیر کے لیے، ہمیشہ اہل علم درکار ہوتے ہیں، نہ کہ اہلِ خطابت۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page