جب اسلام اجنبی بن جائے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳
جب اسلام اجنبی بن جائے
حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ (صحیح مسلم، کتاب الایمان) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ بعد کے زمانے میں اسلام دوبارہ اجنبی ہو جائے گا۔
اس معاملے کی ایک مثال حکمتِ حدیبیہ ہے۔ قرآن میں حکمتِ حدیبیہ کو فتح مبین (الفتح: 1) کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ مگر دورِ نبوت کے بعد دوبارہ حکمتِ حدیبیہ کو دہرایا نہیں گیا، پوری مسلم تاریخ حکمتِ حدیبیہ کی دوسری مثال سے خالی ہے۔ حدیث کے مطابق، اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام خود مسلمانوں کے درمیان اجنبی ہو کر رہ گیا۔
حکمتِ حدیبیہ کیا ہے۔ حکمتِ حدیبیہ یہ ہے کہ مخالفین سے یک طرفہ صلح کر کے حالات کو معتدل بنانا اور پھر مواقع (opportunities) کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔ یہ بلاشبہ ایک فاتحانہ حکمت ہے۔ مگر اس فاتحانہ حکمت کو استعمال کرنے کے لیے آدمی کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، بظاہر وقتی ہزیمت کو برداشت کرنا پڑتا ہے، اپنے جذبات کو دبا کر خالص عقلی فیصلہ لینا پڑتا ہے، اس بنا پر حکمتِ حدیبیہ کو اختیار کرنا ایک قربانی کا عمل بن جاتا ہے۔ لوگ اس قربانی کو دے نہیں پاتے، اس لیے وہ حکمتِ حدیبیہ کو استعمال بھی نہیں کر پاتے۔
موجودہ زمانے میں لوگ حکمتِ حدیبیہ سے اتنے زیادہ بے خبر ہو چکے ہیں کہ اگر آج حکمتِ حدیبیہ کی بات کی جائے تو لوگ اس کو بزدلی اور پستی کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لوگوں کی اسی بے خبر کا نتیجہ ہے کہ حدیبیہ جیسا فتح مبین کا واقعہ تاریخ میں دوبارہ دہرایا نہ جا سکا ۔ لوگ غیر ضروری طور پر لڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں۔ حالاں کہ عین اُسی وقت، حکمتِ حدیبیہ اُن کے لیے زندگی کا پیغام دے رہی ہے۔ فتح مبین کا امکان ہوتے ہوئے، وہ شکستِ مبین کو قبول کیے ہوئے ہیں— کیسے عجیب ہوں گے وہ مسلمان جن کے درمیان خود اسلام خود اسلام اجنبی ہو کر رہ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues