Al-Risala · January 2009 · page 10

تعمیر خویش ، نہ کہ احتجاج

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰

تعمیر خویش ، نہ کہ احتجاج

قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ایک اصول ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً (آل عمران: 120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔

قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سازش کا ہونا، اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہونا ہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو، اُن کے لیے دوسروں کی سازش اور دشمنی غیر موثر ہو کر رہ جائے گی، وہ اُن کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

صبر کوئی انفعالی صفت نہیں۔ صبر کا مطلب وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس کو سیلف کنٹرول (self control) کہا جاتا ہے، یعنی دوسروں کے پیدا کردہ مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنا اور خود اپنی مثبت سوچ کے تحت اپنی زندگی کا منصوبہ بنانا۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی سوچ خود رُخی سوچ (self-oriented thinking) نہ ہو، بلکہ وہ خدا رُخی سوچ (God-oriented thinking) ہو۔ سماج کے اندر اُس کا سلوک خدا کی تعلیمات کے مطابق ہو، نہ کہ اپنی خواہشات اور جذبات کے مطابق۔ جو لوگ صبر اور تقویٰ کی اس روش کو اختیار کریں، اُن کے خلاف دوسروں کی منفی کارروائیاں اپنے آپ بے اثر ہو جائیں گی۔ کیوں کہ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ کوئی بھی غیر مطلوب واقعہ ہمیشہ دو طرفہ کارروائی کے نتیجے میں پیش آتا ہے، نہ کہ صرف یک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے کہ کوئی شخص یا گروہ معتدل ذہن کے تحت کسی کے خلاف کوئی مخالفانہ کارروائی نہیں کرتا۔ ایک شخص یا گروہ کسی دوسرے کے خلاف کوئی منفی کارروائی صرف اُس وقت کرتا ہے، جب کہ اُس کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ ہر منفی کارروائی کسی اشتعال انگیز کارروائی کے نتیجے میں جوابی طور پر پیش آتی ہے۔ صبر اور تقویٰ آدمی کو اس سے روکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page