دولت پرستی کا فتنہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۹
دولت پرستی کا فتنہ
ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکلِّ أمۃ فتنة، وفتنۃ أمّتی المال (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 160) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ تھا، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مال تو ہر زمانے میں انسان کے لیے فتنہ بنا رہا ہے، پھر اس کو خاص طور پر امت محمدی کا فتنہ کیوں کہا گیا۔ یہ خصوصیت شدت کی بنا پر ہے۔ مال کی حیثیت بلاشبہ ہر زمانے میں فتنے کی رہی ہے، لیکن پیغمبرِ اسلام کی امت کا زمانہ صنعتی دور (industrial age) تک وسیع تھا۔ اسی مستقبل کے اعتبار سے آپ نے یہ انتباہ (warning) فرمایا۔
مال کی اہمیت خرید و فروخت کے سامان کے اعتبار سے ہے۔ جدید صنعتی دور سے پہلے خرید و فروخت کے آئٹم بہت کم ہوتے تھے، اس لیے اُس زمانے میں مال کی اہمیت بھی نسبتاً کم تھی۔ لیکن جدید صنعتی دور کے بعد خرید و فروخت کے سامانوں (consumer goods) کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اسی کے ساتھ سامانوں کی چمک دمک میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔ اِس صورتِ حال نے مال کو جدید صنعتی دور میں سب سے بڑا فتنہ بنا دیا۔
قدیم زمانے میں سادہ طور پر مال کی محبت کا مسئلہ تھا، لیکن موجودہ زمانے میں مال نے پرستش کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اب انسان کی ساری زندگی دولت رُخی (money-oriented) بن گئی ہے۔ اب مال کی کشش نے لوگوں کا یہ حال کیا ہے کہ مال ہر ایک کے لیے اس کا سب سے بڑا کنسِرن (supreme concern) بنا ہوا ہے۔
ہر آدمی اپنے تمام وقت اور اپنی ساری توانائی کو زیادہ سے زیادہ مال کے حصول میں لگائے ہوئے ہے۔ اب مال نے عملاً ہر ایک کے لیے معبود کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مال کی محبت کے فتنے سے بچا سکے۔ وہ مال کو ثانوی درجے میں رکھے، اور دین کے تقاضوں کو اپنی زندگی میں اوّلین حیثیت دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues