جب اسلام اجنبی بن جائے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۱۴
شخصیت کی تعمیر
موجودہ زمانے میں ہر آدمی کیریر پرسن (career person) بنا ہوا ہے۔ ہر آدمی یہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک کیریر کو چنتا ہے۔ مثلاً انجنئیر، ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، بزنس منیجر، وغیرہ۔ ہر آدمی یہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ کیریر کے مطابق تعلیم حاصل کرتا ہے۔ وہ اس کی ٹریننگ لیتا ہے اور پھر اس کے مطابق، جاب (job) حاصل کر کے، اپنی پوری زندگی اُس میں لگا دیتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کیرِیرِیزم (careerism) کے اِس طریقے پر چلتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ مر کر اِس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہ دنیوی معنی میں شخصیت کی تعمیر ہے۔ اِسی طرح، آخرت کے اعتبار سے بھی یہ مطلوب ہے کہ ہر آدمی اپنے اندر وہ شخصیت بنائے جو آخرت کی دنیا میں کام آنے والی ہو۔ اِس دوسری قِسم کی شخصیت کی خصوصیات کیا ہیں۔ ایسے انسان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی زندگی کا آغاز تلاشِ حق (truth seeking) سے ہوا ہو، اور پھر ذاتی جستجو کے ذریعے وہ حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کرلے۔ ایسی شخصیت کو ربانی شخصیت کہا جاسکتا ہے۔ حقیقت کی دریافت ہی ربانی شخصیت کی تعمیر کا آغاز ہے۔ جس انسان نے دریافت (discovery) کے درجے میں حقیقت کو نہیں پایا، اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کا آغاز بھی نہیں ہوگا۔
ربانی شخصیت کا دوسرا سب سے بڑا اِجُو یہ ہے کہ وہ کامل معنوں میں ایک مثبت شخصیت ہو، وہ ہر قسم کے منفی احساسات (negative thoughts) سے پوری طرح خالی ہو۔ آخرت کی دنیا میں منفی شخصیت رکھنے والے انسان کا کوئی مقام نہیں۔
اس کے بعد جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ وہ اپنی دریافت کے مطابق، اپنی زندگی کی ترجیحات (priorities) قائم کرے ۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی عذر (excuse) کو عذر نہ بنائے، خواہ بظاہر وہ عذر کتنا ہی زیادہ اہم کیوں نہ ہو— ایسا ہی انسان ربانی انسان ہے، اور یہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues