Al-Risala · March 2009 · page 21

اللہ اکبر کی اسپرٹ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱

اللہ اکبر کی اسپرٹ

اسلام کی اسپرٹ کو ایک لفظ میں ، اللہ اکبر اسپرٹ کہہ سکتے ہیں۔ اسلام کی سب سے بڑی عبادت نماز ہے، جو رات دن میں پانچ بار ادا کی جاتی ہے۔ نوافل کی صورت میں جو نمازیں پڑھی جاتی ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ ان نمازوں میں اور اذان واقامت میں اللہ اکبر کا لفظ روزانہ تقریباً تین سو بار دہرایا جاتا ہے۔

اللہ اکبر کا مطلب ہے_ اللہ بڑا ہے۔ اس میں اپنے آپ یہ بات شامل (implicit) ہے کہ میں بڑا نہیں ہوں۔ اس طرح ہر صاحبِ ایمان روزانہ بار بار اس بات کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے، میرے لیے کوئی بڑائی نہیں۔ باجماعت نماز اسی حقیقت کا ایک عملی مظاہرہ ہے۔ باجماعت نماز میں یہ ہوتا ہے کہ تمام اہل ایمان اپنے درمیان سے ایک شخص کو آگے بڑھا کر سب اس کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ اکبر اسپرٹ کے اظہار کی ایک اجتماعی صورت ہے۔

اللہ اکبر کا مقصد دراصل آدمی کے اندر تواضع (modesty) کی اسپرٹ پیدا کرنا ہے۔ تواضع کی اسپرٹ حقیقی معنوں میں جب آدمی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے، تو وہ کسی حد پر نہیں رکتی، یہ اسپرٹ جس طرح خدا کے سامنے ظاہر ہوتی ہے، اُسی طرح وہ انسان کے مقابلے میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اہلِ ایمان کی پہچان یہ ہے کہ اللہ اکبر کی اسپرٹ، یا تواضع کی اسپرٹ ان کی عملی زندگی میں پوری طرح شامل ہو جائے۔

اللہ اکبر کی اسپرٹ والے لوگ کبھی انانیت اور کبر کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ وہ ہرگز وہ کام نہیں کریں گے جس کو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانا“ کہا جاتا ہے۔ دوسروں کی ماتحتی قبول کرنا ان کو ایک عبادتی فعل معلوم ہوگا۔ ان کی روح کو خود جھکنے میں خوشی ہوگی، نہ کہ دوسروں کو اپنے آگے جھکانے میں۔ وہ اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کر لیں گے۔ وہ قیادت کے شوق سے آخری حد تک خالی ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page