Al-Risala · March 2009 · page 22

نیا انسان

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲

نیا انسان

جس زمانے میں برطانیہ کی حکومت ساری دنیا میں چھائی ہوئی تھی، اس زمانے کا ایک واقعہ ہے کہ برطانیہ کا بادشاہ بھیس بدل کر اپنی مملکت کو دیکھنے کے لیے نکلا۔ ایک جگہ پہنچ کر وہ برطانی فوج کے ایک افسر کے دفتر میں گیا۔ اس نے انگریز افسر سے پوچھا کہ ٹپس برگ کا راستہ کدھر سے جاتا ہے۔ افسر بگڑ گیا۔ اس نے کہا تم ٹپس برگ کا راستہ کسی سے بھی پوچھ سکتے تھے۔ اس کے لیے تمہیں میرے دفتر میں آنے کی کیا ضرورت تھی۔ نو وارد نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ اس نے کہا کیا تم کوئی فوجی افسر ہو۔ نو وارد نے کہا کہ میں اس سے بھی بڑا ہوں۔ اس نے کہا کیا تم کیپٹن ہو۔ نو وارد نے کہا کہ میں اس سے بھی بڑا ہوں۔ اس نے کہا کیا تم کرنل ہو۔ نو وارد نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوں۔ اس نے کہا کیا تم جنرل ہو۔ نو وارد نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوں۔ اس نے کہا کیا تم فیلڈ مارشل ہو۔ نو وارد نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ بڑا ہوں۔ اب فوجی افسر بولا: کیا تم بادشاہ ہو۔ نو وارد نے کہا کہ ہاں۔ فوجی افسر یہ سن کر کانپ اٹھا۔ وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنی جیب سے ریوالور نکالا اور کہا کہ لو، اس سے مجھے شوٹ کر دو۔ میں نے اپنے بادشاہ کی توہین کی ہے۔ اس لیے میری سزا یہی ہے کہ مجھے گولی ماردی جائے۔ بادشاہ نے کہا کہ تم میری فوج کے ایک لائق افسر ہو اس لیے میں تم کو گولی نہیں ماروں گا۔ میں تم کو ایک اور سزا دیتا ہوں وہ سزا یہ ہے کہ آج سے تم ایسا کرو کہ جب بھی تم کسی انسان سے کوئی معاملہ کرو تو یہ سوچ لو کہ تمھارا بادشاہ تمھارے سامنے کھڑا ہے۔ فوجی افسر نے اس کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد اس کی زندگی بدل گئی۔ وہ آخر عمر تک نہایت محتاط زندگی گزارتارہا، یہاں تک کہ اسی حال میں مر گیا۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا اور انسان کا ہے۔ انسان طرح طرح کی سرکشی کرتا ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ خدا کو اپنے سے دور سمجھتا ہے۔ اگر وہ جان لے کہ خدا عین اس کے قریب موجود ہے۔ وہ اس کو ہر لمحہ دیکھ رہا ہے تو اچانک اس کی سوچ میں ایک انقلاب آچلئے۔ وہ اپنے ہر قول اور فعل میں آخری حد تک محتاط روش اختیار کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page