ٹیم ورک کی اہمیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۲۵
مجھ کو ستا تا تھا کہ وقت کی بین اقوامی زبان میں خدا کی کتاب کا صحیح اور مؤثر ترجمہ موجود نہیں۔ میں اس کام کو وقت کے مسلمہ معیار پر کرنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے میں نے بہت سے اہل علم کو متوجہ کرنا چاہا، مگر کوئی اس کے لیے تیار نہ ہوا۔ آخر کار میں نے فیصلہ کیا کہ میں خود اس کام کی ذمے داری لوں اور ٹیم ورک کے ذریعے قرآن کا مطلوب انگریزی ترجمہ تیار کرنے کی کوشش کروں۔
پچھلے تقریباً بیس سال سے میں اور میرے ساتھی خاموشی کے ساتھ اس کام میں اپنی کوشش صرف کرتے رہے ہیں۔ میرے سوا، کئی لوگ مثلاً ڈاکٹر فریدہ خانم، ڈاکٹر ثانی اثنین خاں وغیرہ اس مشکل کام میں ڈیڈی کیشن کے ساتھ مشغول رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے قرآن کا یہ انگریزی ترجمہ تیار ہو چکا ہے اور اب اُس کا دوسرا ایڈیشن چھپ رہا ہے۔ یہ انگریزی ترجمہ پورے معنوں میں ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ اس کے ذریعے پہلی بار قرآن کا ایک ایسا انگریزی ترجمہ وجود میں آیا ہے جو ان شاء اللہ درست بھی ہے اور وضوح (clarity) اُس کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ میرا احساس یہ ہے کہ اس حدیث میں کلمۂ اسلام سے مراد کلام الہی (Word of God) ہے، یعنی قرآن۔ اس حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اُس کا تعلق پرنٹنگ پریس کے زمانے سے ہے۔ یہ صرف موجودہ پریس کے زمانے میں ممکن ہوا ہے کہ قرآن کے مطبوعہ نسخے تمام دنیا کے ہر گھر میں پہنچا دیے جائیں۔ اب جب کہ اللہ کی توفیق سے، وقت کی بین اقوامی زبان میں قرآن کا صحیح ترجمہ وجود میں آ چکا ہے، پوری ملت کا یہ فرض ہے کہ وہ متحدہ کوشش کے ذریعے قرآن کے اس نسخے کو سارے عالم تک پہنچادے، وہ اُس کو دنیا کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل کردے۔ میرا احساس ہے کہ اس طرح قرآن کا ساری دنیا میں، ہر گھر اور ہر مقام میں، پہنچ جانا اتمام حجت کا آخری واقعہ ہوگا۔ انسانی تاریخ غالباً اپنے آخری دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس آخری دور میں جو سب سے بڑا دعوتی کام انجام پانا ہے، وہ بلاشبہ یہی ہے کہ خدا کا کلام خدا کے تمام بندوں تک ان کی قابل فہم زبان میں پہنچا دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues