ٹیم ورک کی اہمیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
ٹیم ورک کی اہمیت
مولانا مناظر احسن گیلانی (وفات: 1956) ایک بار دار المصنفین (اعظم گڑھ) آئے تھے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953) یہاں رہا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی ذاتی محنت سے بہت سی اہم کتابیں تصنیف کی تھیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے مولانا گیلانی نے کہا— یورپ میں جو کام اکادمی کرتی ہے، ہندوستان میں اُس کو ایک آدمی کرتا ہے۔ میں کہوں گا کہ قدیم حالات میں کوئی ایک شخص بھی بڑا کام کر سکتا تھا۔ لیکن موجودہ حالات میں کوئی بڑا کام کرنے کے لیے ٹیم ورک لازمی طور پر ضروری ہو گیا ہے۔
موجودہ زمانے میں علم کا جو اعلیٰ معیار قائم ہوا ہے، اُس اعلیٰ معیار پر کوئی بڑا علمی کام ایک فرد انجام نہیں دے سکتا، اُس کو انجام دینے کے لیے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے۔ چناں چہ موجودہ زمانے میں تمام بڑے بڑے علمی کام ٹیم کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ مسلمان موجودہ زمانے میں وقت کے اعلیٰ علمی معیار پر کوئی کتاب تیار نہ کر سکے۔ اُس کا سبب یہی ہے کہ اُن کے یہاں ابھی تک ایک فرد کتاب لکھتا ہے، اکیڈمک ورک (academic work) کا ابھی تک مسلمانوں کے یہاں رواج نہیں۔ اس معاملے میں ایک سبق آموز مثال قرآن کے انگریزی ترجمے کی ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں، قرآن کے بہت سے انگریزی ترجمے کیے گئے ہیں۔ اکثر انگریزی ترجمے ہمارے یہاں موجود ہیں۔ یہ تمام ترجمے شخصی کوشش کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں۔ میں عرصہ دراز سے قرآن کے انگریزی ترجمے دیکھتا رہا ہوں۔ میں نے پایا ہے کہ ہر ترجمے میں دو بنیادی کمی پائی جاتی ہے۔ ایک، یہ کہ بہت سے مقامات پر ترجمے غلط کیے گئے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ ان ترجموں میں وضوح (clarity) بہت کم ہے۔ قرآن کی خاص صفت یہ ہے کہ اس کے اندر کمال درجے میں وضوح پایا جاتا ہے۔ لیکن ان انگریزی ترجموں میں قرآن کی یہی اہم صفت بڑی حد تک موجود نہیں۔ قرآن کے موجودہ انگریزی ترجموں میں اس کمی کا احساس مجھ کو بہت پہلے ہو چکا تھا۔ یہ احساس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues