Al-Risala · March 2009 · page 30

دعوت کے عمومی مواقع

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰

دعوت کے عمومی مواقع

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو 610ء میں نبوت عطا ہوئی۔ اُس وقت آپ مکہ کے قریب حرا پہاڑ کے ایک غار میں تھے۔ پہلی وحی کے بعد آپ پر جو دوسری وحی اتری، وہ قرآن کی سورہ نمبر 74 کی ابتدائی آیتیں تھیں۔ ان آیتوں میں آپ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: یا أيهَا المدثر، قم فأنذر، وربّكَ فكبر، وثيابك فطهر، والرّجز فاهجر (المدثر : 5-1) یعنی اے اوڑھ کر لیٹنے والے، اٹھ اور لوگوں کو آگاہ کر اور اپنے رب کی بڑائی بول۔ اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ۔ اور گندگی کو چھوڑ دے۔ ان آیتوں میں اخلاق کے آداب نہیں بتائے گئے ہیں، بلکہ دعوت کے آداب بتائے گئے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اٹھو اور لوگوں کو توحید کی دعوت دو، لوگوں کے سامنے خدا کی بڑائی بیان کرو، لوگوں کی برائیوں سے اعراض کرتے ہوئے تمام مواقعِ دعوت کو استعمال کرو۔

دعوت کے مقصد کے لیے داعی کو لوگوں کے درمیان جانا پڑتا ہے۔ قدیم مکہ میں کعبہ وہ جگہ تھی، جہاں لوگ اکٹھا ہوتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے وہاں ہر قبیلے کے بتوں کو رکھ دیا گیا تھا۔ اُس وقت کعبہ کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ وہاں تمام عرب قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے، اور دوسرا یہ کہ انھیں بتوں کی وجہ سے وہاں لوگوں کا اجتماع ہوا کرتا تھا۔ ایسی حالت میں رسول اللہ کو یہ حکمت بتائی گئی کہ بتوں کی موجودگی کے مسئلے کو نظر انداز کرو اور وہاں کے اجتماع کو دعوت کے لیے استعمال کرو۔ اس حکمت کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— مسائل کو نظر انداز کرو اور دعوت کو استعمال کرو: Ignore the problems and avail the opportunities. یہ حکمت صرف قدیم دور کے لیے نہ تھی، بلکہ وہ آج کے زمانے میں بھی پوری طرح مطلوب ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ دعوت کے لیے انسانوں کا اجتماع (gathering) درکار ہے۔ یہ اجتماع صرف دعوت کے لیے نہیں ہوسکتا، وہ لوگوں کے اپنے مقاصد کے لیے ہوگا۔ جیسا کہ کعبہ میں بتوں کی پرستش کے لیے ہوتا تھا۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اجتماع اور مقصد اجتماع، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھا جائے۔ داعی کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ اکٹھا ہونے والے لوگ بطور خود

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page