غوروفکرایک عبادت
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲
غوروفکرایک عبادت
أخرج أبو نعيم في الحلية (164/1) عن محمد بن واسع : أن رجلاً من البصرة ركب إلى أم ذر رضي الله عنها بعد وفاة أبي ذر رضي الله عنه، يسألها عن عبادة أبي ذر، فأتاها فقال : جئتک لتخبريني عن عبادة أبي ذر ، قالت : كان النّهار أجمع خالياً يتفکر (حیة الصحابة، جلد 2، صفحہ 627)۔
ترجمہ: محمد بن واسع کہتے ہیں کہ ابوذر صحابی کی وفات کے بعد ایک آدمی بصرہ سے سفر کر کے اُم ذر (اہلیہ ابوذر) کے پاس آیا، تا کہ وہ ابوذر کی عبادت کے بارے میں اُن سے معلوم کرے۔ وہاں پہنچ کر اس نے کہا کہ میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں ، تا کہ آپ مجھ کو ابوذر کی عبادت کے بارے میں بتائیں۔ اُم ذر نے کہا کہ وہ سارے دن تنہائی میں بیٹھ کر غوروفکر کرتے تھے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول کی خصوصی عبادت کیا ہوتی تھی۔ وہ وہی چیز ہوتی تھی جس کو قرآن میں ، تفکر، تذکر، تدبر، توسم اور تعقل جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی فطرت (nature) میں اور دینی امور میں غور کرتے رہنا، غور وفکر کے ذریعے ہر روز اپنے لیے ربانی غذا حاصل کرنا، متعین عبادات کے سوا، غیر متعین عبادت میں مشغول رہنا۔
انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے رُٹین (routine) کا طالب ہے۔ اُس کا ہر کام رٹین کے تحت ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے، پانچ وقت کی نماز گویا کہ رُٹین کی نماز ہے۔ یہ رُٹین بلاشبہ ضروری ہے، مگر عبادت اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ یہی تسلسل، مومن کی زندگی میں غوروفکر کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اس دنیا کے ہر مشاہدے اور تجربے میں خدا کی تجلی شامل رہتی ہے۔ یہی تجلیات جب زندہ احساس بن جائیں تو اُس کو ذکر و فکر کہا جاتا ہے۔ یہی وہ عبادت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں انسان کی تخلیق کا مقصد قرار دیا گیا ہے: وما خلقت الجنّ والإنس إلا ليعبدون (الذاريات: 56)۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues