Al-Risala · January 2009 · page 13

ظاہری تبدیلی، حقیقی تبدیلی

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

ظاہری تبدیلی، حقیقی تبدیلی

ہفت روزہ امریکی میگزین ٹائم (17 نومبر 2008) کی کور اسٹوری نئے امریکی صدر پیرک اوباما (Barack H. Obama) پر ہے۔ صدارتی مہم کی تکمیل پر 5 نومبر 2008 کو یہ اعلان کیا گیا کہ پیرک اوباما، امریکا کے چوائسویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کامیابی کے فوراً بعد شکاگو میں ایک بڑے مجمع کے سامنے اپنی پہلی پبلک تقریر کی۔ تقریر کا آغاز انھوں نے اُس مشہور جملے سے کیا جس کو ٹائم نے اپنے ٹائٹل پر پیرک اوباما کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اُن کی تقریر کا پہلا جملہ یہ تھا- تبدیلی امریکا تک پہنچ گئی۔

Change Has Come to America

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امریکا میں جو چیز بدلی ہے، وہ صرف وہاں کی صدرات ہے، نہ کہ وہاں کے حالات۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے کہ :

Change has come to American presidency.

انسانی تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے۔ لوگ ظاہری تبدیلی کو حقیقی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پانچ سال تک پیرک اوباما اسی طرح پر شور الفاظ بولتے رہیں گے، یہاں تک کہ جب پانچ سال پر ان کا دور صدارت ختم ہوگا تو معلوم ہوگا کہ حقیقی معنوں میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا، جس کو تبدیلی (change) کہا جاسکے، امریکا کے اصل مسائل بدستور موجود ہیں، بلکہ اُن میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ زندگی میں حقیقی تبدیلی عمومی حالات میں تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ صدر یا وزیر اعظم کے بدلنے سے۔ لوگ عام طور پر اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ لوگ پہلے جشن فتح مناتے ہیں، اور آخر میں مایوس ہو کر اگلے الیکشن میں اُسی شخص کو ہرا دیتے ہیں جس کی انتخابی جیت کو انھوں نے حقیقی تبدیلی کے ہم معنی سمجھ لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں تبدیلی، انسان میں تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ سیاسی عہدے داروں کی تبدیلی سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page