Al-Risala · March 2009 · page 33

آگ کی طرف چھلانگ

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳

کو دجھما جہنم جنت میں، تو اب لوگوں کا فارمولا یہ ہو گیا ہے کہ ــــــ کو دجھما جہنم دوزخ میں۔ یہ انتہا پسندانہ ذہن مسلمانوں کے اندر کیوں پیدا ہوا۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ دشمنی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے بعض سیاسی اسباب کی بنا پر تمام انسانوں کو اپنا دشمن سمجھ لیا ہے۔ وہ ہر ایک سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ آدمی جب دشمنی اور نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے تو وہ اپنے مفروضہ دشمن کے مقابلے میں اندھے پن میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بڑھی ہوئی نفرت کی بنا پر اس کا ذہن یہ ہو جاتا ہے کہ مجھے اس دشمن کو ہلاک کرنا ہے، خواہ اُس کے نتیجے میں خود میں بھی ہلاک ہو جاؤں۔ یہ وہ نفسیات ہے جس کو قرآن میں شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ قرآن میں شیطان کو انسان کا ازلی دشمن بتایا گیا ہے: إنّ الشيطان للإنسان عدوّ مبين (يوسف: 5) قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے شیطان سے کہا کہ ایسا کرنے کی بنا پر تم کو جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس علم کے باوجود شیطان کی عداوتی سرگرمی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پوری تاریخ میں انسان کے خلاف شیطان کی یہ دشمنانہ سرگرمیاں مسلسل طور پر جاری رہی ہیں۔ قرآن کے اس حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنی کی نفسیات اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ ایسے لوگ ہر حال میں اپنے مفروضہ دشمن کو نقصان پہنچانا چاہیں گے، خواہ اس کے نتیجے میں خود اُن کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیا جائے۔

قرآن کا یہ حوالہ اُن لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو دوسری قوموں کے خلاف دشمنی اور نفرت میں اتنا زیادہ مغلوب ہوگئے ہیں کہ وہ خودکش بم باری کی حد تک جا کر اُنھیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، حالاں کہ خودکشی کا مطلب حرام موت مرنا ہے، اور حرام موت کا انجام بلا شبہ جہنم کی آگ ہے۔ جو لوگ اس بھیانک عمل میں مبتلا ہیں اور جو لوگ اُس کی کھلی مذمت نہیں کرتے، دونوں کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ وہ کہیں اس خدائی وارنگ کا مصداق نہ بن جائیں: لأملأنّ جهنّم منك وممّن تبعك أجمعين (ص: 85)

دشمنی اور نفرت کے جذبات سے مغلوب ہو کر خودکش بم باری کرنا گویا کہ جان بوجھ کر جہنم کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ یہ بے حد سنگین معاملہ ہے، خودکش بم باری کرنے والوں کے لیے بھی اور جو لوگ اس پر کھلی تکیر نہ کریں، اُن کے لیے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page