آگ کی طرف چھلانگ
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲
آگ کی طرف چھلانگ
موجودہ زمانے میں جگہ جگہ ایسا ہو رہا ہے کہ کچھ انتہا پسند مسلمان خود ساختہ تصورِ شہادت (استشهاد) کے تحت، خود کش بم باری (suicide bombing) کر رہے ہیں۔ وہ مفروضہ دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے آپ کو ہلاک کر رہے ہیں۔ یہ بلاشبہ خود کشی کا فعل ہے جو اسلام میں ثابت شدہ طور پر حرام ہے، اور حرام موت کا انجام یقینی طور پر جہنم ہے۔ عجیب بات ہے کہ مسلم رہ نما اس حرام فعل کی کھلی مذمت نہیں کرتے، بلکہ عرب علماء استشهاد (طلبِ شہادت) کے خود ساختہ تصور کے تحت اس کو جائز ٹھہرا رہے ہیں۔ اس معاملے پر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ مشرقی یوپی میں ایک مسلمان تھے۔ وہ زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھے، لیکن وہ اچھی تقریر کرنا جانتے تھے۔ انھوں نے اپنے لیے کسب معاش کا یہ طریقہ نکالا کہ وہ جہاں دیکھتے کہ لوگ مسجد بنوانا چاہتے ہیں، وہ اُن سے کہتے کہ تم لوگ مجھ کو مسجد کے لیے چندہ کرنے کا ٹھیکہ دے دو۔ میں مسجد کی تعمیر کے لیے سارا پیسہ لاؤں گا، اُس میں پچاس فی صد میرا ہوگا اور پچاس فی صد تمھارا ہوگا۔ اِس طرح کا معاملہ کر کے وہ نکلتے۔ وہ جگہ جگہ مسلمانوں کا اجتماع کرتے۔ وہاں وہ پر جوش تقریریں کر کے لوگوں کو مسجد کی تعمیر پر ابھارتے۔
حدیث کی مختلف کتابوں میں تعمیر مسجد کے بارے میں ایک روایت آئی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: من بنى لله مسجداً، بنى الله له بيتاً فى الجنة۔ (بحوالہ مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث، 697)، یعنی جس شخص نے اللہ کے لیے ایک مسجد تعمیر کی، اللہ اُس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کرے گا۔ وہ اس حدیث کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتے اور پھر جذباتی انداز میں مجمع کو خطاب کرتے ہوئے کہتے۔ کو دجھما جھم جنت میں۔ اس کے بعد لوگ دل کھول کر مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دیتے۔
موجودہ زمانے میں خود کش بم باری کے واقعات کثرت سے ہو رہے ہیں۔ ان خبروں کو سن کر میں نے کہا کہ موجودہ مسلمانوں نے اس معاملے میں نیا طریقہ نکالا ہے۔ پہلے اگر فارمولا یہ تھا کہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues