مسئلے کا یقینی حل
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱
سوال و جواب سوال میں تدریسی پیشے سے منسلک ہوں اور الحمد للہ دین کی سمجھ بنیادی طور پر رکھتا ہوں۔ میری پریشانی یہ ہے کہ کبھی تو دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو دین سے قریب کرنے کی کوشش کروں، لیکن پھر قوم کی بے رخی اور ان کو برائی کے دلدل میں پھنسا ہوا دیکھتا ہوں اور ان کی بہانہ بازی دیکھتا ہوں تو پھر ان سے بات تک نہ کرنے اور کوئی کام نہ کرنے کی بات دل میں آ جاتی ہے۔ مہربانی فرما کر اپنے مشورے سے مجھے نوازیں کہ میں اپنوں کے درمیان اصلاح کا کام کس طرح کروں۔ چوں کہ میں سرکاری ملازم ہوں اس لیے غیر مسلم اساتذہ سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ کچھ مذہب کے متعلق خیالات کا تبادلہ بھی ہوتا ہے، لیکن میرے پاس کوئی لٹریچر ان حضرات کو اسلام کی معلومات دینے والا نہیں ہے۔ اگر آپ کچھ ارسال کر سکیں تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔ میں منتظر ہوں کہ آپ میری رہ نمائی فرمائیں (غلام فرید، ایوت محل، مہاراشٹر)۔
جواب
دعوت واصلاح کا کام ایک ذمے داری ہے۔ وہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں کیا جاتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے لازمی طور پر ضرور یہ ہے کہ وہ پیغمبر کے ذریعے ملے ہوئے خدائی پیغام کو اُس کے بندوں تک پہنچائیں۔ اس معاملے میں نتیجہ (result) کا پہلو ایک اضافی (relative) پہلو ہے۔ دعوت واصلاح کے عمل کا مطلوب نتیجہ نکلے یا نہ نکلے، ہر حال میں دعوت و اصلاح کا کام جاری رکھنا ہے، اُس وقت تک جب تک کہ موت نہ آ جائے۔
دعوت واصلاح کا کام صرف مدعو کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ خود داعی کے اعتبار سے ہے۔ دعوت واصلاح کے کام میں ہمیشہ مختلف قسم کے تجربات ہوتے ہیں۔ یہ تجربات داعی کی شخصیت کی تعمیر کے لیے انتہائی حد تک اہم ہیں۔ ان تجربات کے بغیر داعی کے اندر مطلوب شخصیت بن سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مدعو کی طرف سے مثبت جواب (positive response) نہ ملے، تب بھی دعوتی عمل
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues