مسئلے کا یقینی حل
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
کا یہ فائدہ بہر حال حاصل ہوتا ہے کہ داعی کی اپنی شخصیت مسلسل طور پر ترقی کا سفر طے کرتی رہتی ہے، آپ قرآن کو اس پہلو سے پڑھیں تو آپ واضح طور پر اس حقیقت کو دریافت کر لیں گے۔ سوال میں نے پہلا خط آپ کی جانب لکھا تھا۔ اس کا جواب مجھے ’الرسالہ‘ میں مل گیا۔ امید ہے کہ آپ آگے بھی ہماری رہ نمائی فرمائیں گے۔ حال ہی میں ایک درسگاہ میں ایک اجتماع کا انعقاد ہوا جو ہمارے پاس ہی واقع ہے۔ مجھے اللہ نے وہاں جانے کی توفیق عطا فرمائی۔ وہاں ایک مقرر نے جو مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، آپ کی ایک کتاب کا حوالہ دے کر لوگوں کو بہت سی باتوں سے واقف کرایا۔ میں بہت متاثر ہوا۔ جب بھی کسی سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو اکثر آپ کی کتابوں کو پڑھنے کا مشورہ دیتا رہتا ہوں۔ میری دلی تمنا ہے کہ دنیا بھر میں امن و امان قائم ہو اور ہمارے علماء آپ کی طرح سوچنے لگیں اور دین کی اصل صورت لوگوں تک پہنچائیں۔ لوگوں میں جو ذہن پیدا ہوا ہے، وہ ہمارے علماء ہی کی دین ہے۔ ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے دلوں میں علماء کا احترام ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہماری سوچ بھی ویسی ہو جاتی ہے۔
چند دن پہلے میں اپنے ایک دوست سے بات کر رہا تھا تو جواب میں وہ بولنے لگے کہ آپ نے بات اچھی کی، لیکن آپ دین کے معاملے میں زیادہ ڈیپ (deep) ہو رہے ہیں اور اگر آگے بھی ایسا چلتا رہا تو اللہ ہی آپ کا نگہبان ہے۔ آپ کو ایک رہبر کی ضرورت ہے۔ میں سمجھ گیا کہ رہبر سے ان کی مراد کیا ہے کیوں کہ یہاں پر عام لوگوں کا یہی عقیدہ ہے۔ میں بات کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ خط کے ذریعے یا کتاب کے ذریعے میرے اندر ایک زندہ شعور پیدا ہو۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور آپ کی تحریروں میں اثر دے اور ہمارے دلوں میں خلوص دے تا کہ ہم جو پڑھیں یا سنیں، وہ ہمارے دلوں میں اتر جائے (شکیل احمد ملک، سری نگر، کشمیر)۔
جواب
آپ کے ساتھی کا یہ کہنا کہ آپ دین کے معاملے میں زیادہ ’’ڈیپ‘‘ میں کیوں جا رہے ہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues